World
ہارلے وائٹ مین ہٹ اینڈ رن کیس: مجرم کی قبل از وقت رہائی پر خاندان کی شدید تشویش
برطانوی حکومت کی قبل از وقت رہائی کی اسکیم کے تحت تیرہ سالہ ہارلے وائٹ مین کو کچلنے والے ڈرائیور کی سزا میں کمی کر دی گئی ہے۔ اس فیصلے پر متوفی بچے کا خاندان شدید صدمے اور دکھ میں مبتلا ہے۔
برطانیہ میں ایک دل دہلا دینے والے واقعے کے بعد لواحقین کو اس وقت شدید صدمے کا سامنا کرنا پڑا جب تیرہ سالہ ہارلے وائٹ مین کی جان لینے والے ہٹ اینڈ رن ڈرائیور کو قبل از وقت جیل سے رہا کیے جانے کا انکشاف ہوا۔ اس خبر نے نہ صرف سوگوار خاندان کو اندر سے جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے بلکہ انصاف کے تقاضوں پر بھی سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ ہارلے وائٹ مین کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے انہیں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ان کے پیارے کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا ازالہ کرنے کے بجائے مجرم کو ایک بار پھر چھوٹ دے دی گئی ہے۔
حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق، مجرم ہارلے وائٹ مین (مختلف خبروں کے تناظر میں ڈرائیور) کی سزا میں یہ کمی برطانوی حکومت کی اس نئی اسکیم کے تحت کی گئی ہے جس کا مقصد جیلوں میں بڑھتی ہوئی گنجائش کے بحران سے نمٹنا ہے۔ حکومتی پالیسی کے تحت بعض مجرموں کو ان کی سزا کا مقررہ حصہ پورا کرنے سے پہلے ہی رہا کیا جا رہا ہے تاکہ جیلوں کا بوجھ کم کیا جا سکے۔ تاہم، اس اسکیم کے منفی اثرات اس وقت سامنے آئے جب اس طرح کے سنگین مقدمات میں سزا پانے والے مجرم بھی اس رعایت کا فائدہ اٹھانے لگے۔
متوفی لڑکے کے خاندان نے حکومت کے اس اقدام پر شدید برہمی اور غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک معصوم بچے کی زندگی چھیننے والے شخص کو اتنی جلدی آزاد کر دینا قانون کی ناکامی اور متاثرہ خاندان کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔ خاندان کے ترجمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے سنگین جرائم میں ملوث افراد کے لیے اس قسم کی نرمی معاشرے میں غلط پیغام دیتی ہے اور انصاف کے نظام پر سے عوام کا اعتماد متزلزل کرتی ہے۔
دوسری جانب، قانونی اور سماجی حلقوں میں بھی اس واقعے کے بعد بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا جیلوں کی گنجائش کو پورا کرنے کے لیے اس قسم کے ہٹ اینڈ رن اور مہلک حادثات کے مجرموں کو بھی قبل از وقت رہائی دی جانی چاہیے۔ عوام اور انسانی حقوق کے کارکنان اس بات کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ حکومت اپنی اس پالیسی پر نظرثانی کرے تاکہ سنگین جرائم کے مجرموں کو قانون کے مطابق پوری سزا مل سکے اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف کی بروقت تسلی مل سکے۔