World
مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کا جلاوطنی کے خلاف موقف
مقبوضہ مغربی کنارے کے فلسطینی باشندوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے آبائی علاقوں میں موجود رہنے اور اسرائیلی آباد کاروں اور فوج کی جانب سے بے دخلی کی مہم کے خلاف پرعزم ہیں۔ مقامی لوگوں نے مشکل ترین حالات میں بھی اپنی زمین اور ثقافتی شناخت کے تحفظ کا عزم ظاہر کیا ہے۔
عالمی سطح پر یومِ ستاں کے موقع پر جہاں دنیا بھر میں مقامی اور دیسی قبائل کے حقوق کی بات کی جا رہی ہے، وہیں مقبوضہ مغربی کنارے کے فلسطینی باشندے بھی اپنی زمینوں پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ مقامی رہائشیوں اور ذرائع کے مطابق، اسرائیلی آباد کاروں اور فوج کی طرف سے فلسطینیوں کو ان کے آبائی علاقوں سے بے دخل کرنے کی ایک منظم اور مسلسل مہم جاری رکھی گئی ہے تاکہ خطے میں ڈیموگرافک توازن کو تبدیل کیا جا سکے۔
فلسطینی باشندوں کا کہنا ہے کہ یہ مہم کئی دہائیوں سے جاری ہے جس کا مقصد انہیں ان کی اپنی ہی زمینوں سے محروم کرنا ہے۔ روزمرہ کی زندگی میں چیک پوسٹوں کی سختی، زمینوں پر قبضے کے بڑھتے ہوئے واقعات اور سکیورٹی فورسز کی سخت گیر پالیسیوں کے باوجود، مقبوضہ مغربی کنارے کے مکینوں نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ وہ اپنی تاریخ، ثقافت اور زمین کو چھوڑ کر کہیں نہیں جائیں گے۔ ان کا یہ عزم ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔
بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اور آباد کاری کے نئے منصوبوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اس قسم کے اقدامات بین الاقوامی قوانین اور جنیوا کنونشن کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ اس کے باوجود زمینی حقائق میں کوئی خاص بہتری نہیں آئی اور مقامی فلسطینی آبادی روزانہ کی بنیاد پر بے پناہ اقتصادی اور سماجی مشکلات کا سامنا کرنے کے باوجود اپنے گھروں اور زمینوں سے جڑی ہوئی ہے۔