LIVE
Loading Breaking News...

پاک سعودی ترکیہ دفاعی معاہدہ خطے کے تمام ممالک کے لیے کھلا ہے: اسحاق ڈار

News Image
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے واضح کیا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والا مکہ جوائنٹ ڈیفنس معاہدہ خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی کھلا ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ یہ معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی کے خلاف نہیں ہے۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اتوار کے روز ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والا دفاعی معاہدہ خطے کے ان تمام ممالک کے لیے کھلا ہے جو اس کے بنیادی اصولوں کی پاسداری کرنے کے خواہشمند ہیں۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ یہ معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد کسی بھی فریق کے خلاف جارحیت کرنا نہیں بلکہ خطے میں پائیدار امن و استحکام کو فروغ دینا ہے۔ یاد رہے کہ جمعہ کے روز سعودی عرب کے شہر مکہ میں ایک مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے، جس کا مقصد باضابطہ طور پر اجتماعی ڈیٹرنس کو مضبوط بنانا اور رکن ممالک پر ہونے والے کسی بھی حملے کو سب پر حملہ تصور کرنا ہے۔ اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک بیان میں اس معاہدے کو 'مکہ اکورڈ' کا نام دیتے ہوئے کہا کہ یہ تینوں برادر ملکوں کی قیادت اور عوام کے درمیان گہرے تعلقات کا مظہر ہے۔ یہ معاہدہ برسوں کی بات چیت اور مشاورت کا نتیجہ ہے جس کا مقصد کثیر جہتی سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس نئے معاہدے سے کسی بھی پرانے دو طرفہ یا کثیر جہتی معاہدے کو منسوخ نہیں کیا گیا اور یہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آریکل 51 کے تحت انفرادی اور اجتماعی دفاع کے حق کے عین مطابق ہے۔ ترکیہ کے وزیر خارجہ ہکان فدان نے بھی اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ چند تکنیکی امور طے ہونے کے بعد مصر بھی اس اتحاد کا حصہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اس اتحاد کے اصول ناٹو کے آرٹیکل 5 کی طرح ہیں جہاں ایک رکن پر حملہ سب پر حملہ مانا جاتا ہے۔ تاہم اس کا عمل درآمد متعلقہ اداروں کی مشاورت سے ہو گا اور کسی بھی ملک کو خطرہ نہیں سمجھا جاتا جب تک خود کسی رکن ملک کو نشانہ نہ بنایا جائے۔ تینوں ممالک اپنے علاقائی حدود اور ترقی کے لیے کوشاں ہیں اور یہ اتحاد خطے میں امن کی نئی راہیں کھولے گا۔