Pakistan
مکہ دفاعی معاہدہ: پاکستان کا مؤقف اور شراکت داری کے اصول
پاکستان نے واضح کیا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدہ ان تمام ممالک کے لیے کھلا ہے جو اس کے بنیادی اصولوں کی پاسداری کریں۔ اس سلسلے میں خطے میں تعاون اور سکیورٹی کے نئے افق کھل رہے ہیں۔
اسلام آباد: پاکستان کی جانب سے حال ہی میں سامنے آنے والے بیانات میں یہ بات زور دے کر کہی گئی ہے کہ مکہ دفاعی معاہدہ ان تمام ممالک کے لیے کھلا ہے جو اس معاہدے کے بنیادی اصولوں اور مقاصد کی پاسداری کرنے کے لیے تیار ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان عسکری اور دفاعی شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر زور دیا جا رہا ہے۔
حالیہ دنوں میں دارالحکومت اور دیگر اہم مقامات پر سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ دوستی اور دفاعی اشتراک کو اجاگر کرنے والے ہورڈنگز اور بل بورڈز بھی آویزاں کیے گئے ہیں، جن پر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، وزیراعظم محمد شہباز شریف، فیلڈ مارشل اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور ترک صدر رجب طیب اردگان کی تصاویر موجود ہیں۔ یہ علامات دونوں برادر ملکوں کے ساتھ پاکستان کے گہرے تزویراتی تعلقات اور مضبوط عسکری ہم آہنگی کی عکاس ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس دفاعی تعاون کا بنیادی مقصد خطے میں کسی بھی قسم کے بیرونی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کو نکھارنا اور ایک موثر سکیورٹی ڈھانچہ تشکیل دینا ہے۔ معاہدے میں شمولیت کے حوالے سے پاکستان کا یہ مؤقف ظاہر کرتا ہے کہ یہ اتحاد کسی مخصوص خطے تک محدود رہنے کے بجائے امن پسند اور اصول پرست ملکوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کا خواہاں ہے، جس سے آنے والے دنوں میں علاقائی استحکام کو مزید تقویت ملے گی۔