Technology
اسپیس ایکس اسٹار شپ ہیٹ شیلڈ اور فلائٹ 14 سافٹ ویئر اپ گریڈ
اسپیس ایکس نے حال ہی میں اسٹار شپ کے ری انٹری پروفائل کا کامیابی سے تجزیہ کیا ہے تاکہ اس کے نظام کو سخت ترین حالات میں پرکھا جا سکے۔ کمپنی نے فلائٹ 14 کے لیے انجن ری لائٹ سافٹ ویئر میں اہم اپ گریڈز بھی متعارف کرائے ہیں۔
خلائی تحقیقاتی ادارے اسپیس ایکس نے اپنے جدید ترین اسٹار شپ خلائی جہاز کے حوالے سے ایک اہم پیشرفت کا اعلان کیا ہے۔ حالیہ پرواز کے دوران کمپنی نے جان بوجھ کر ایک انتہائی پُر جوش اور زیادہ ڈائنامک پریشر والا ری انٹری پروفائل اختیار کیا تاکہ جہاز کے سسٹمز کو معمول کی واپسی کے مقابلے میں کہیں زیادہ دباؤ اور سختی کا سامنا کرنا پڑے۔ اس تجربے کا مقصد ہیٹ شیلڈ کی کارکردگی کا باریک بینی سے جائزہ لینا اور یہ دیکھنا تھا کہ انتہائی کٹھن ماحول میں بھی یہ ڈھانچہ کس طرح کام کرتا ہے۔ تجربے کے دوران حاصل ہونے والے ڈیٹا سے معلوم ہوا کہ خلائی جہاز نے نہ صرف اس کڑے امتحان کا کامیابی سے سامنا کیا بلکہ یہ مقررہ وقت پر درست انداز میں پلٹنے اور لینڈنگ برن کے مراحل سے بھی گزرا۔ اس کے علاوہ جہاز نے سمندر میں ایک نرم سپلیش ڈاون بھی مکمل کیا اور بالکل سالم رہتے ہوئے سگنلز اور ڈیٹا کی ترسیل کا عمل جاری رکھا۔ اس کامیابی کے بعد انجینئرز کو ہیٹ شیلڈ کے رویے اور ڈیزائن کو مزید بہتر بنانے کے لیے قیمتی معلومات حاصل ہو گئی ہیں۔ دوسری جانب اسپیس ایکس کی ٹیم نے آنے والی فلائٹ 14 کے لیے انجن ری لائٹ سافٹ ویئر میں بھی بڑے پیمانے پر اپ گریڈز پر کام شروع کر دیا ہے۔ ان سافٹ ویئر اپ گریڈز کا مقصد خلا میں انجن کو دوبارہ شروع کرنے کے عمل کو مزید قابل اعتماد بنانا ہے، جو مستقبل کے طویل خلائی مشنز اور چاند یا مریخ کی طویل تر پروازوں کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ان تکنیکی بہتریوں سے نہ صرف اسٹار شپ کی کارکردگی میں اضافہ ہوگا بلکہ اس کی حفاظت اور بحالی کے امکانات بھی روشن تر ہو جائیں گے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ اقدامات اسپیس ایکس کے دوبارہ قابل استعمال خلائی نظام کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے میں سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔