Business
امریکہ میں مزدوروں کی اجرتیں گریٹ ڈپریشن کے بعد کم ترین سطح پر
امریک میں محنت کشوں کی اجرت قومی آمدنی کا محض 43 فیصد رہ گئی ہے جو کہ گریٹ ڈپریشن کے بعد سے اب تک کی سب سے کم ترین سطح ہے۔ ماہرین اس صورتحال کا ذمہ دار معاشی پالیسیوں اور نکسن کے دور میں گولڈ اسٹینڈرڈ کے خاتمے کو قرار دے رہے ہیں۔
امریکہ میں محنت کش طبقے اور مزدوروں کی مالی حالت کے حوالے سے تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے جہاں امریکی مزدوروں کی اجرتیں گر کر قومی آمدنی کا صرف 43 فیصد رہ گئی ہیں۔ معاشی تاریخ کے مطابق یہ 1930 کی دہائی کے گریٹ ڈپریشن کے بعد سے سب سے نچلی ترین سطح ہے، جس نے ماہرینِ معاشیات اور مزدور رہنماؤں کو گہری سوچ میں ڈال دیا ہے۔ اس زوال کی بنیادی وجوہات میں دہائیوں پر محیط پالیسی میں تبدیلیاں اور کارپوریٹ سیکٹر کا غلبہ شامل ہے۔
کئی ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ 1971 میں صدر رچرڈ نکسن کے دور میں امریکی ڈالر کا سونے کی پشت پناہی سے اخراج اس زوال کا ایک بڑا موڑ ثابت ہوا۔ گولڈ اسٹینڈرڈ کے خاتمے کے بعد سے روایتی اجرتوں میں افراطِ زر کے تناسب سے اضافہ نہیں دیکھا گیا جبکہ پیداواری صلاحیت میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔ نتیجے کے طور پر، محنت کشوں کو ان کی محنت کا منصفانہ معاوضہ ملنا بند ہو گیا اور منافع کا بڑا حصہ سرمایہ کاروں اور اعلیٰ کارپوریٹ عہدیداروں کی تجوریوں میں جانے لگا۔
حالیہ برسوں میں مہنگائی کی بلند شرح اور روزمرہ اشیاء کی قیمتوں میں اضافے نے امریکی مزدور طبقے کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ تنخواہوں میں جمود اور آمدنی کا چھوٹا حصہ ملنے کی وجہ سے متوسط طبقہ سکڑ رہا ہے اور دولت کا ارتکاز چند ہاتھوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب تک مزدوروں کی اجرتوں کو ملکی ترقی اور پیداوار کے ساتھ منسلک نہیں کیا جاتا، اقتصادی عدم مساوات کا یہ بحران مزید گہرا ہوتا جائے گا اور امریکی معیشت کو طویل المدتی بنیادوں پر خطرات کا سامنا رہے گا۔