World
چیف جسٹس سوریا کانت: ٹیکنالوجی سے مقدمات کا التواء کم ہوا
چیف جسٹس سوریا کانت کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے نفاذ سے عدالتوں میں مقدمات کے فیصلے جلد کرنے میں نمایاں مدد ملی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہر فرضی ہراسانی کے معاملے کو لے کر عام بیانات دینا درست نہیں ہے۔
نئی دہلی: بھارتی چیف جسٹس سوریا کانت نے حالیہ بیان میں اس بات پر زور دیا ہے کہ عدالتی نظام میں ٹیکنالوجی کے جدید اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں، جن کی بدولت برسوں پرانے مقدمات کے التواء میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عدالتی امور کو ڈیجیٹل بنانے اور شفاف طریقہ کار اپنانے سے فیصلوں کی رفتار میں نمایاں تیزی آئی ہے۔
چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ ملک بھر کی عدالتوں میں ٹیکنالوجی پر مبنی اسکیمیں انتہائی سودمند ثابت ہو رہی ہیں، جن کی وجہ سے سائلین کو بروقت انصاف کی فراہمی ممکن ہو پا رہی ہے۔ مقدمات کے تیزی سے نمٹارے کے اس عمل نے نہ صرف عدالتی نظام پر دباؤ کم کیا ہے بلکہ عام سائلین کا عدلیہ پر اعتماد بھی مزید مضبوط کیا ہے۔
ایک اور اہم معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے جسٹس سوریا کانت نے اس بات کا اعادہ کیا کہ فرضی ہراسانی کے واقعات کے حوالے سے عمومی نوعیت کے بیانات یا تبصرے نہیں کیے جانے چاہئیں۔ ہر معاملے کی انفرادی نوعیت اور حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی قانون کے مطابق فیصلہ کیا جانا انتہائی ضروری ہے۔
عدلیہ کے اندر اصلاحات کا یہ سفر آنے والے دنوں میں بھی جاری رہنے کی توقع ہے، جہاں ڈیجیٹل نظام کو مزید وسعت دی جائے گی۔ قانونی ماہرین نے بھی اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ٹیکنالوجی کا استعمال اسی طرح جاری رہا تو انصاف کی راہ میں حائل رکاوٹیں جلد ختم ہو جائیں گی۔