LIVE
Loading Breaking News...

فارمولا ون میں پنک لیوری کی کہانی، ٹوٹو وولف اور اوٹمار سافناور کا انکشاف

News Image
اوٹمار سافناور نے انکشاف کیا ہے کہ فارمولا ون کی مشہور گلابی رنگ کی گاڑیوں کے پیچھے مرسڈیز کے سربراہ ٹوٹو وولف کا اہم ہاتھ تھا۔ بی ڈبلیو ٹی کمپنی نے اصل میں مرسڈیز سے رابطہ کیا تھا لیکن بات نہ بننے پر فورس انڈیا سے یہ تاریخی شراکت داری قائم ہوئی۔
فارمولا ون کی تاریخ میں فورس انڈیا کی پنک رنگ کی گاڑیاں اور ان کی منفرد لیوری شائقین کے دلوں میں ایک خاص مقام رکھتی ہیں۔ حال ہی میں ٹیم کے سابق سربراہ اوٹمار سافناور نے اس رنگین دور کے آغاز سے متعلق ایک انتہائی دلچسپ اور حیرت انگیز کہانی کا انکشاف کیا ہے۔ ان کے مطابق، اس تاریخی اسپانسرشپ کے پیچھے مرسڈیز کے ٹیم باس ٹوٹو وولف کا ایک پوشیدہ اور کلیدی کردار رہا ہے، جس کی وجہ سے فارمولا ون کا رنگ ہی بدل گیا۔ اوٹمار سافناور کا کہنا ہے کہ واٹر ٹریٹمنٹ کی معروف کمپنی 'بی ڈبلیو ٹی' (BWT) نے ابتدائی طور پر مرسڈیز ٹیم سے رابطہ کیا تھا تاکہ وہ فارمولا ون میں بطور اسپانسر داخل ہو سکیں۔ چونکہ مرسڈیز پہلے ہی اپنے برانڈ اور رنگوں کے ساتھ مضبوط پوزیشن میں تھی اور وہ اپنے روایتی سلور ایرو کو تبدیل نہیں کرنا چاہتی تھی، اس لیے انہوں نے اس پیشکش کو قبول کرنے سے معذرت کر لی۔ تاہم، ٹوٹو وولف نے اس موقع کو ضائع کرنے کے بجائے بی ڈبلیو ٹی کے نمائندوں کو فورس انڈیا کا رخ کرنے کا مشورہ دیا۔ ٹوٹو وولف کی جانب سے یہ تجویز ملنے کے بعد، بی ڈبلیو ٹی نے فورس انڈیا کے حکام سے رابطہ کیا، جہاں معاملات انتہائی خوش اسلوبی سے طے پا گئے۔ اس وقت کے فورس انڈیا کے لیے یہ مالی معاونت اور اسپانسرشپ کسی نعمت سے کم نہیں تھی۔ اس معاہدے کے نتیجے میں گاڑیوں کو ایک بالکل نیا، شوخ اور منفرد گلابی رنگ دیا گیا، جو دیکھتے ہی دیکھتے ٹریک پر سب کی توجہ کا مرکز بن گیا اور شائقین میں بے حد مقبول ہوا۔ اس تبدیلی نے نہ صرف ٹیم کی مالی حالت کو مستحکم کیا بلکہ فارمولا ون کی مارکیٹنگ کی دنیا میں ایک نئی مثال بھی قائم کی۔ اوٹمار سافناور نے اعتراف کیا کہ اگر ٹوٹو وولف وقت پر درست رہنمائی نہ کرتے تو شاید یہ پنک لیوری کبھی بھی فارمولا ون کا حصہ نہ بنتی۔ آج بھی شائقین فورس انڈیا کے اس دور کو یاد کرتے ہیں اور اسے کھیل کی تاریخ کے بہترین بصری تجربات میں سے ایک شمار کرتے ہیں۔