Technology
میٹا کے سی ٹی او کا ملازمین کو چھٹیاں چھوڑ کر اے آئی پر توجہ دینے کا حکم
میٹا کے سی ٹی او اینڈریو بوسورتھ نے ملازمین پر واضح کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے بچنے والے وقت کو مزید چھٹیوں کے بجائے بہتر مصنوعات تیار کرنے میں صرف کیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کمپنی کو اس وقت جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے پراجیکٹس پر مکمل توجہ دینی چاہیے۔
سماجی رابطوں کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنی میٹا (Meta) کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر (CTO) اینڈریو بوسورتھ نے اپنے ملازمین کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مزید تعطیلات کا مطالبہ کرنے سے گریز کریں۔ انہوں نے زور دیا کہ مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال سے پیدا ہونے والے پیداواری فوائد اور بچنے والے وقت کو اضافی چھٹیوں کے بجائے مزید جدید اور بہترین مصنوعات کی تیاری میں استعمال کیا جانا چاہیے۔
ذرائع کے مطابق ایک اندرونی میٹنگ کے دوران ملازمین کی جانب سے اضافی وقت یا چھٹیوں کے حوالے سے پوچھے گئے سوالات پر سی ٹی او نے سخت ردعمل کا اظہار کیا اور اسے غیر ضروری قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت کمپنی کی اولین ترجیح مصنوعی ذہانت کے شعبے میں نمایاں ترقی کرنا اور مارکیٹ میں اپنی پوزیشن کو مزید مستحکم بنانا ہے۔ انہوں نے ملازمین کو ترغیب دی کہ وہ اے آئی ٹولز کی مدد سے اپنی کارکردگی کو بڑھائیں اور کمپنی کے اہداف کے حصول کے لیے زیادہ محنت کریں۔
واضح رہے کہ میٹا کی جانب سے حالیہ مہینوں میں اخراجات کو کنٹرول کرنے اور کارکردگی بہتر بنانے کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے ہیں، جن میں بڑے پیمانے پر ملازمتوں میں کٹائی بھی شامل ہے۔ کمپنی نے اس سال اربوں ڈالر مصنوعی ذہانت اور اس سے جڑے انفراسٹرکچر پر خرچ کیے ہیں تاکہ مستقبل کے چیلنجز سے بخوبی نمٹا جا سکے۔ انتظامیہ کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کے اس دور میں مقابلہ بازی میں آگے رہنے کے لیے تمام ٹیموں کو مکمل یکسوئی اور محنت کے ساتھ کام کرنا ہو گا۔
ان بیانات کے بعد سے ٹیک انڈسٹری میں ملازمین کے حقوق، ورک لائف بیلنس اور کارپوریٹ کلچر کے حوالے سے ایک بار پھر بحث شروع ہو گئی ہے۔ جہاں ایک طرف انتظامیہ کا موقف ہے کہ تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی کی دنیا میں بقا کے لیے سخت محنت ضروری ہے، وہیں دوسری طرف ملازمین کی جانب سے کام کے بڑھتے ہوئے دباؤ اور کام کے اوقات پر بھی تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ تاہم میٹا کی اعلیٰ قیادت نے اپنی سمت واضح کر دی ہے کہ آنے والے دنوں میں تمام توجہ صرف اور صرف جدید اے آئی پراجیکٹس پر ہی مرکوز رہے گی۔