World
اسرائیل کا غزہ امن منصوبہ مسترد، حماس کا مؤقف سامنے آگیا
اسرائیل نے غزہ کے حوالے سے پیش کیے جانے والے ڈونلڈ ٹرمپ کے 15 نکاتی امن منصوبے کو مسترد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب حماس کا کہنا ہے کہ وہ خطے میں امن کے لیے اس نوعیت کے منصوبوں پر بات چیت اور عملدرآمد کے لیے اب بھی تیار ہے۔
عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل نے غزہ کی صورتحال کو بہتر بنانے اور جاری کشمکش کے خاتمے کے لیے پیش کیے جانے والے ڈونلڈ ٹرمپ کے 15 نکاتی امن منصوبے کو باضابطہ طور پر مسترد کر دیا ہے۔ اس فیصلے سے خطے میں دیرپا امن کی کوششوں کو ایک بار پھر شدید دھچکا لگا ہے، کیونکہ بین برادری اس تنازع کے پرامن حل کی متلاشی تھی۔ رپورٹ کے مطابق، اسرائیل کا یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشمکش میں شدت برقرار ہے اور سفارتی سطح پر مختلف تجاویز پر غور کیا جا رہا تھا۔
دوسری جانب، فلسطینی تنظیم حماس نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ وہ غزہ کے معاملے پر مثبت انداز میں آگے بڑھنے اور امن منصوبوں کے تحت کام کرنے کے لیے اب بھی تیار ہے۔ حماس کا اصرار ہے کہ خطے میں خونریزی کے خاتمے اور عام شہریوں کی فلاح و بہبود کے لیے سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے، تاہم فریقین کے درمیان بنیادی مطالبات اور شرائط پر تاحال شدید اختلافات پائے جاتے ہیں جو کسی بھی سمجھوتے کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
ادھر عالمی تجزیہ کاروں اور مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے اس منصوبے میں فلسطینیوں کو غیر مسلح کرنے جیسی کڑی شرائط شامل تھیں، جن پر سیاسی اور عسکری سطح پر سخت گیر ردعمل پایا جاتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ محض امن معاہدوں کے اعلانات کے بجائے زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹھوس عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ غزہ کے محصور عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جا سکے اور طویل مدتی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔