LIVE
Loading Breaking News...

سپریم کورٹ کا بی آئی ایس پی ریٹیلر آئی ڈی کیس پر بڑا فیصلہ

News Image
سپریم کورٹ نے بی آئی ایس پی کے ایک ریٹیلر کی بلاک شدہ آئی ڈی بحال کرنے کے حوالے سے جاری کردہ احکامات کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ عدالت نے اس معاملے سے متعلق متعلقہ حکام کے فیصلوں کو مسترد کرتے ہوئے نیا لائحہ عمل اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے ایک ریٹیلر کی بلاک شدہ آئی ڈی کی بحالی کے حوالے سے جاری ہونے والے احکامات کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ کی جانب سے یہ فیصلہ فریقین کے دلائل سننے کے بعد سنایا گیا، جس میں شفافیت اور ضابطہ کار کی پاسداری پر زور دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بی آئی ایس پی انتظامیہ کی جانب سے مختلف بے ضابطگیوں اور شکایات کی بنیاد پر متعلقہ ریٹیلر کی آئی ڈی کو بلاک کیا گیا تھا تاکہ غریب مستحقین تک امدادی رقم کی فراہمی میں کسی قسم کی خرد برد یا رکاوٹ کو روکا جا سکے۔ تاہم نچلی عدالتوں یا متعلقہ فورمز سے آئی ڈی کی بحالی کے احکامات جاری ہوئے تھے جنہیں سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا۔ عدالت عظمیٰ نے اس کیس کی سماعت کے دوران بی آئی ایس پی کے انتظامی امور اور پالیسیوں کا جائزہ لیا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں میں کسی بھی قسم کی غفلت یا قواعد کی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ سپریم کورٹ نے نچلے اداروں کے فیصلوں کو قانون کے منافی قرار دیتے ہوئے انہیں کالعدم قرار دینے کا حکم صادر کیا۔ اس فیصلے کے بعد بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی انتظامیہ کو مزید اختیارات اور قانونی معاونت مل گئی ہے تاکہ وہ امدادی رقوم کی تقسیم کے عمل کو زیادہ شفاف اور محفوظ بنا سکے۔ قانونی ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے مستقبل میں بی آئی ایس پی کے دائرہ کار میں آنے والے فنانشل پارٹنرز اور ریٹیلرز کے لیے ضابطہ اخلاق کی پابندی مزید سخت ہو جائے گی۔