LIVE
Loading Breaking News...

روم میں غیر قانونی عمارات کیخلاف آپریشن، سینکڑوں افراد بے گھر

News Image
اطسلی کے دارالحکومت روم میں انتظامیہ کی جانب سے غیر قانونی طور پر قابض عمارتوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔ اس کریک ڈاؤن کے نتیجے میں تقریبا تین سو رہائشی کھلے آسمان تلے سڑکوں پر کیمپ لگانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
اطسلی کے تاریخی اور سیاحتی شہر روم میں انتظامیہ کی جانب سے غیر قانونی طور پر قابض عمارتوں اور رہائشی مقامات کے خلاف ایک بڑا کریک ڈاؤن شروع کیا گیا ہے۔ اس کارروائی کے نتیجے میں تقریبا تین سو افراد کو مجبوراََ اپنی رہائش گاہیں چھوڑنا پڑیں، جو اب شہر کی سڑکوں پر عارضی کیمپ لگا کر رہنے پر مجبور ہیں۔ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائی قانون کی بالادستی اور عمارتوں کی حفاظت کے پیش نظر کی جا رہی ہے، تاہم اس اچانک اقدام سے متاثرہ افراد شدید مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں۔ متاثرہ مکینوں میں خواتین، بچے اور بوڑھے بھی شامل ہیں جو کسمپرسی کی حالت میں سڑکوں پر رات گزارنے پر مجبور ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ تمام افراد طویل عرصے سے ان متروک یا غیر آباد عمارتوں میں رہائش پذیر تھے کیونکہ وہ مہنگے کرایوں اور شہر میں رہائش کے بحران کی وجہ سے کوئی اور متبادل تلاش کرنے سے قاصر تھے۔ روم میں رہائشی مکانات کی کمی اور بڑھتی ہوئی قیمتیں پہلے ہی ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہیں، اور اس قسم کے کریک ڈاؤن نے اس بحران کو مزید گھمبیر کر دیا ہے۔ سڑکوں پر موجود بے گھر افراد نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انھیں فوری طور پر متبادل رہائش فراہم کی جائے تاکہ وہ اس سردی اور مشکلات سے محفوظ رہ سکیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی انتظامیہ کی اس کارروائی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اس معاملے کا فوری حل نکالے۔ ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ بغیر کسی مناسب متبادل بندوبست کے غریب اور لاوارث افراد کو اس طرح بے گھر کرنا انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔ دوسری طرف، روم کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ عمارتوں کو خالی کرانے کا یہ عمل قانونی تقاضوں کے مطابق ہے اور قانون شکنی کرنے والوں کے خلاف کارروائی جاری رکھی جائے گی۔ اس صورتحال نے روم میں ساتی اور معاشی مسائل پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، جبکہ متاثرہ افراد تحال اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر دکھی حالات میں بیٹھے ہیں۔