LIVE
Loading Breaking News...

روسی حملہ یوکرین اوڈیسا میں، زیلنسکی کا شدید ردعمل

News Image
روسی افواج نے یوکرین کے شہر اوڈیسا پر ایک شدید اور وحشیانہ حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں کئی افراد ہلاک ہو گئے۔ یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے ماسکو پر عالمی غذائی سلامتی کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا ہے۔
روسی افواج نے یوکرین کے خلاف اپنی کارروائیوں میں شدت لاتے ہوئے بندرگاہی شہر اوڈیسا پر ایک انتہائی شدید اور ہلاکت خیز حملہ کیا ہے۔ اس حالیہ بمباری کے نتیجے میں متعدد افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جبکہ شہر کے بنیادی ڈھانچے اور بندرگاہی تنصیبات کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ روسی فورسز کی جانب سے کیے جانے والے اس پرتشدد حملے کے بعد خطے میں کشیدگی ایک بار پھر خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ اس صورتحال پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے ماسکو پر کڑی تنقید کی ہے۔ صدر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ اوڈیسا کی بندرگاہ پر ہونے والے یہ مسلسل اور وحشیانہ حملے محض یوکرین کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کی غذائی سلامتی کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہیں۔ اوڈیسا کی بندرگاہ یوکرین سے دنیا بھر میں غلے اور خوراک کی برآمدات کے لیے مرکزی حیثیت رکھتی ہے اور ان حملوں سے عالمی سطح پر خوراک کی رس رسائی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ حملے کے بعد یوکرین کے حکام نے عالمی برادری سے فوری اور مؤثر مداخلت کا مطالبہ کیا ہے تاکہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے اور بین الاقوامی تجارت کے اس اہم بحری راستے کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے۔ دوسری جانب بین الاقوامی سطح پر بھی ان حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے یوکرین کے تنازعے کے پرامن حل کی امیدیں مزید مدہم پڑتی دکھائی دے رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اوڈیسا پر ہونے والے یہ حملے جنگ کے ایک نئے اور خطرناک مرحلے کی غمازی کرتے ہیں جہاں فریقین کے درمیان فوجی دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ یوکرینی عوام اور حکام اس کٹھن وقت میں بھی عزم کا اظہار کر رہے ہیں جبکہ روس کی جانب سے ان کارروائیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جس سے انسانی بحران کے مزید گہرے ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔