Business
پاکستانی سمندری حدود میں ترکیہ کی آف شور ڈرلنگ، وزیر پیٹرولیم کا اعلان
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اعلان کیا ہے کہ ترکیہ جلد ہی پاکستانی سمندری حدود میں ہائیڈرو کاربن کی تلاش کے لیے آف شور ڈرلنگ کا عمل شروع کرے گا۔ پاکستان اپنی توانائی کی تقریبا نوے فیصد ضروریات درآمدات کے ذریعے پوری کرتا ہے، جس کے پیش نظر یہ اقدام ملکی معیشت کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک نے ہائیڈرو کاربن ڈویلپمنٹ انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان کے دورے کے موقع پر اہم انکشاف کیا ہے کہ برادر ملک ترکیہ بہت جلد پاکستانی سمندری حدود میں تیل اور گیس کے ذخائر کی تلاش کے لیے آف شور ڈرلنگ کا آغاز کرے گا۔ اس منصوبے سے دونوں ممالک کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ ملے گا اور پاکستان کو اپنے قدرتی ذخائر دریافت کرنے میں بڑی مدد ملے گی۔ وزیر پیٹرولیم کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کو توانائی کے شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔ موجودہ صورتحال کے مطابق پاکستان اپنی توانائی کی تقریباً نوے فیصد ضروریات کو پورا کرنے کے لیے درآمدات پر انحصار کرتا ہے، جس سے قومی خزانے پر بہت بڑا بوجھ پڑتا ہے۔ اس بھاری درآمدی بل کی وجہ سے تجارتی خسارہ بھی بڑھتا ہے جو ملکی معیشت کی ترقی میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ حکومتی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر سمندری حدود میں تیل یا گیس کے بڑے ذخائر دریافت ہو گئے تو اس سے نہ صرف درآمدی بل میں نمایاں کمی آئے گی بلکہ ملک میں توانائی کا بحران بھی مستقل طور پر حل ہو سکتا ہے۔ ماہرینِ اقتصادیات نے ترکیہ کے ساتھ اس تعاون کو ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا ہے کیونکہ ترکیہ کے پاس سمندری حدود میں ڈرلنگ اور توانائی کی تلاش کا جدید تکنیکی تجربہ موجود ہے۔ حکومت اس بات کی پوری کوشش کر رہی ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں بالخصوص ترکیہ جیسی برادر دوست ریاستوں کے ساتھ مل کر مقامی سطح پر قدرتی وسائل کی دریافت کو تیز کیا جائے۔ وزارتِ پیٹرولیم اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر لائحہ عمل تیار کر رہی ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے چند مہینوں میں عملی طور پر کام کا آغاز کر دیا جائے گا، جس سے پاکستان کے روشن مستقبل کی امیدیں وابستہ ہیں۔