Technology
نیو اورلینز 911 ایمرجنسی کالز اے آئی ٹیکنالوجی
امریکہ کے شہر نیو اورلینز میں 911 ایمرجنسی کالز کے انتظام میں مدد کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال شروع کر دیا گیا ہے۔ اس قدم پر جہاں انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس سے کارکردگی بہتر ہوگی، وہیں شہریوں کی طرف سے بھی تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
امریکی شہر نیو اورلینز میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے نظام کو مزید تیز اور مؤثر بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) ٹیکنالوجی کا استعمال شروع کر دیا گیا ہے۔ حکام کا ماننا ہے کہ اس جدید قدم سے 911 ایمرجنسی کالز کو سنبھالنے میں مدد ملے گی اور شہریوں کو بروقت امداد فراہم کرنے کے عمل میں بہتری آئے گی۔ تاہم، اس اقدام کے بعد عوامی حلقوں میں مختلف قسم کے تحفظات بھی سامنے آ رہے ہیں اور شہری اس نئی ٹیکنالوجی کے استعمال کے طریقہ کار پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔
انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ بڑھتے ہوئے کالز کے دباؤ اور عملے کی کمی جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے مصنوعی ذہانت کا سہارا لینا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ AI سسٹمز کالز کی نوعیت کو فوری طور پر سمجھنے اور ان کی ترجیحات طے کرنے میں مدد کرتے ہیں، جس سے ایمرجنسی عملے کا قیمتی وقت بچتا ہے اور وہ زیادہ تیزی سے جائے وقوعہ پر پہنچ سکتے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی انسانوں کی جگہ نہیں لے گی بلکہ ان کے معاون کے طور پر کام کرے گی۔
دوسری جانب، شہریوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے اس پیش رفت پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انتہائی حساس نوعیت کے ایمرجنسی معاملات میں مصنوعی ذہانت پر انحصار کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، بالخصوص جب بات انسانی جانوں کو بچانے کی ہو۔ لوگوں کو خدشہ ہے کہ تکنیکی خرابیوں یا الگورتھم کی غلطیوں کی وجہ سے کسی کی زندگی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے، اس کے علاوہ نجی معلومات کے تحفظ کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
مجموعی طور پر، نیو اورلینز کا یہ قدم ایمرجنسی خدمات میں ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے کردار اور اس کے چیلنجز کی ایک واضح مثال ہے۔ جہاں دنیا بھر میں پبلک سیفٹی کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی کوششیں جاری ہیں، وہیں عوام کا اعتماد اور ڈیٹا کی رازداری برقرار رکھنا بھی انتظامیہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ حکام ان عوامی تحفظات کو دور کرنے کے لیے کیا اقدامات کرتے ہیں۔