LIVE
Loading Breaking News...

انڈونیشیا پام آئل: چھوٹے کسانوں کی پیداوار بڑھانے پر زور

News Image
انڈونیشیا پام آئل ایسوسی ایشن نے ملک میں چھوٹے کسانوں کی پیداواری صلاحیت میں بہتری کو مشترکہ ترجیح قرار دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ملکی ضروریات کو پورا کرنا اور عالمی منڈی میں پائیدار ترقی کو برقرار رکھنا ہے۔
جکارتہ (اے این ٹی اے آر اے) - انڈونیشیا پام آئل ایسوسی ایشن (GAPKI) نے کہا ہے کہ چھوٹے کسانوں کی پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانا ایک مشترکہ ترجیح ہونی چاہیے تاکہ انڈونیشیا ملکی طلب کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر اپنی پائیداری کو بھی برقرار رکھ سکے۔ انڈونیشیا میں پام آئل کی صنعت ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور اس شعبے سے لاکھوں کسان اور ورکرز وابستہ ہیں۔ ایسوسی ایشن کا ماننا ہے کہ روایتی طریقوں سے ہٹ کر جدید زرعی تکنیکوں کو اپنانا اب وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق، چھوٹے کسانوں کو درپیش چیلنجز میں معیاری کھاد کی عدم دستیابی، پرانے پودے اور مالیاتی وسائل کی کمی سرفہرست ہیں۔ جب تک ان کسانوں کو حکومتی اور نجی سطح پر تعاون فراہم نہیں کیا جاتا، فی ہیکٹر پیداوار میں مطلوبہ اضافہ حاصل کرنا مشکل ہوگا۔ گیپکی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز بشمول حکومت، کارپوریٹ سیکٹر اور کسانوں کو مل کر ایک جامع لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا جو پیداوار میں اضافے کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی تحفظ کے بین الاقوامی معیاروں پر بھی پورا اترتا ہو۔ عالمی منڈی میں انڈونیشیائی پام آئل کی مانگ میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، لیکن دوسری طرف ماحولیاتی ضابطوں اور پائیداری کے دباؤ میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ چھوٹے کسان اگر جدید اور پائیدار زرعی طریقوں سے لیس ہوں تو وہ نہ صرف اپنی آمدنی میں اضافہ کر سکتے ہیں بلکہ ملک کی مجموعی برآمدات میں بھی بہتر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ایسوسی ایشن نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ کسانوں کی تربیت اور ان کی مالی معاونت کے لیے آئندہ مہینوں میں مزید مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔