AI
چین میں مصنوعی ذہانت کا نیا بحران: معیاری ڈیٹا کی کمی
چین میں مصنوعی ذہانت کی ترقی کے لیے اب امریکی چپس نہیں بلکہ چینی زبان کے اعلیٰ معیار کے تربیتی ڈیٹا کی کمی سب سے بڑی رکاوٹ بنتی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق ناکافی ڈیٹا مستقبل میں چینی اے آئی ماڈلز کی صلاحیتوں کو محدود کر سکتا ہے۔
چین کی مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں اب ایک بالکل نیا اور غیر متوقع چنمو سامنے آ گیا ہے جو کہ سیمی کنڈکٹرز یا چپس نہیں بلکہ چینی زبان کے اعلیٰ معیار کے تربیتی ڈیٹا کی قلت ہے۔ حال ہی میں امریکی پابندیوں نے جدید ترین سیمی کنڈکٹرز کی فراہمی کو لے کر عالمی سطح پر بہت بحث چھیڑ رکھی ہے، لیکن چینی ماہرین اور صنعت سے وابستہ افراد کا ماننا ہے کہ اصل بحران ڈیٹا کی فراہمی میں کمی کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ جدید اے آئی ماڈلز کو تربیت دینے کے لیے وسیع پیمانے پر درست، معیاری اور متنوع مواد کی ضرورت ہوتی ہے، جو کہ اب چینی زبان میں محدود ہوتا جا رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بڑی زبان کے ماڈلز (LLMs) کو مزید طاقتور بنانے کے لیے جتنا زیادہ ڈیٹا درکار ہوتا ہے، اتنا ہی معیار پر پورا اترنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ انٹرنیٹ پر موجودہ مواد یا تو پہلے ہی استعمال ہو چکا ہے یا پھر وہ اس معیار پر پورا نہیں اترتا جو کہ جدید ترین الگورتھمز کو بہتر انداز میں سکھانے کے لیے ضروری ہے۔ اس صورتحال نے چینی محققین اور اے آئی کمپنیوں کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ نئے اور متبادل ذرائع تلاش کریں تاکہ ڈیٹا کی اس قلت پر قابو پایا جا سکے۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر اس مسئلے کا بروقت حل نہ نکالا گیا تو یہ رکاوٹ چین کی مصنوعی ذہانت کی طویل المدتی ترقی اور عالمی مسابقت کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے اب مختلف ادارے مصنوعی ڈیٹا (synthetic data) اور بہتر ڈیٹا فلٹرنگ کے طریقوں پر بھی غور کر رہے ہیں تاکہ اے آئی ماڈلز کی تربیت کا عمل بغیر کسی تعطل کے جاری رکھا جا سکے۔