World
ایئر انڈیا ٹربولنس حادثہ: ڈی جی سی اے کی تحقیقات اور عملے کی حالت
پُھوکٹ سے دہلی آنے والی ایئر انڈیا کی پرواز کو پیش آنے والے شدید ٹربولنس کے واقعے کے بعد عملے کے چار ارکان تاحال زیر علاج ہیں۔ بھارتی سول ایوی ایشن اتھارٹی (ڈی جی سی اے) نے اس حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
نئی دہلی: تھائی لینڈ کے سیاحتی مقام پُھوکٹ سے بھارتی دارالحکومت دہلی آنے والی ایئر انڈیا کی ایک پرواز کو دورانِ سفر پیش آنے والے شدید فضائی تلاطم یعنی ٹربولنس کے واقعے نے ہوا بازی کے شعبے میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ اس خطرناک واقعے کے نتیجے میں زخمی ہونے والے مسافروں کی اکثریت کو طبی امداد کی فراہمی کے بعد اسپتال سے ڈسچارج کیا جا چکا ہے، تاہم عملے کے چار ارکان اب بھی مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔
بھارتی ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (ڈی جی سی اے) نے اس افسوسناک واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ایک جامع تحقیقاتی عمل شروع کر دیا ہے۔ تفتیش کار اس بات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا پرواز کے دوران پائلٹس کو موسمی صورتحال کا بروقت اندازہ ہو گیا تھا یا پھر یہ ٹربولنس اچانک پیش آیا۔ اس کے علاوہ طیارے کے بلیک باکس اور فلائٹ ڈیٹا ریکارڈرز کا بھی تجزیہ کیا جا رہا ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ عملے نے اس ہنگامی صورتحال میں کس طرح ردعمل ظاہر کیا۔
ماہرین کے مطابق حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے فضا میں غیر متوقع ٹربولنس کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو ہوائی سفر کے دوران مسافروں اور عملے کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ ایئر انڈیا کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ ڈی جی سی اے کے ساتھ اس معاملے میں مکمل تعاون کر رہے ہیں اور زخمی عملے کے ارکان کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ پرواز میں موجود دیگر مسافروں کو بھی واقعے کے بعد ہر ممکن تعاون اور کاؤنسلنگ کی پیشکش کی گئی ہے۔
اس واقعے کے بعد ایک بار پھر طیاروں کے سفر کے دوران سیٹ بیلٹ کے لازمی استعمال اور حفاظتی تدابیر پر سختی سے عمل درآمد کرنے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔ ڈی جی سی اے کی حتمی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ آیا اس حادثے میں کسی قسم کی غفلت شامل تھی یا یہ مکمل طور پر ایک قدرتی موسمی حادثہ تھا۔ تحقیقات کے نتائج کی روشنی میں مستقبل میں ایسے واقعات سے نمٹنے کے لیے نئی ہدایات جاری کیے جانے کا بھی امکان ہے۔