World
ایران کی یوکرین کو بحیرہ کیسپیئن حملے پر جوابی کارروائی کی دھمکی
تہران نے بحیرہ کیسپیئن میں اپنے جہازوں پر یوکرین کے حملے کو ایک مجرمانہ فعل قرار دیتے ہوئے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ایرانی حکام نے یوکرین کو نتائج بھگتنے کی تنبیہ کی ہے جبکہ یوکرینی صدر نے کسی بھی جوابی کارروائی سے خوفزدہ نہ ہونے کا اعلان کیا ہے۔
تہران نے یوکرین کو بحیرہ کیسپیئن میں پیش آنے والے ایک مہلک بحری واقعے کے بعد سخت نتائج اور جوابی کارروائی کی تنبیہ جاری کی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یوکرین نے بحیرہ کیسپیئن میں مبینہ طور پر ایرانی جہازوں کو نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ تہران حکومت نے اس کارروائی کو ایک انتہائی غیر ذمہ دارانہ، دشمنانہ اور مجرمانہ فعل قرار دیا ہے جس سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ اور دیگر اعلیٰ عسکری حلقوں کی جانب سے جاری کردہ بیانات میں کہا گیا ہے کہ ایران اپنے قومی مفادات اور بحری سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ تہران میں قائم سفارتی ذرائع کے مطابق اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت ایران کو اس قسم کی جارحیت کا جواب دینے کا پورا حق حاصل ہے اور وہ مناسب وقت پر اس کا بھرپور جواب دے گا۔ دوسری طرف یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایران کی جانب سے کسی بھی ممکنہ جوابی کارروائی سے بالکل نہیں ڈرتے اور ان کا ملک ہر قسم کے حالات سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ زیلنسکی کا یہ بھی کہنا تھا کہ یوکرین اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے عزم مصمم رکھتا ہے اور دشمن کی کسی بھی دھمکی کے آگے ہرگز نہیں جھکے گا۔ اس تازہ کشیدگی کے بعد بحیرہ کیسپیئن اور اردگرد کے خطے میں سکیورٹی کے امور پر گہری تشویش پائی جا رہی ہے جبکہ بین الاقوامی برادری بھی اس معاملے پر نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکا جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس تنازع کے پھیلاؤ سے مشرق وسطیٰ اور مشرقی یورپ کے پہلے سے کشیدہ حالات پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔