Technology
آندھرا پردیش میں موبائل ٹاورز کے لیے مفت زمین اور سستی بجلی
آندھرا پردیش کی حکومت نے ریاست کے دور دراز اور دیہی علاقوں میں موبائل کنیکٹیویٹی کو سو فیصد تک پہنچانے کے لیے اہم اقدام کیا ہے۔ اس پالیسی کے تحت موبائل ٹاورز کے قیام کے لیے کرایہ سے پاک زمین اور رعایتی نرخوں پر بجلی فراہم کی جائے گی۔
نئی دہلی اور حیدرآباد سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق آندھرا پردیش کی حکومت نے ریاست کے دور دراز، دیہی اور تجارتی لحاظ سے غیر منافع بخش علاقوں میں موبائل کنیکٹیویٹی کو سو فیصد تک یقینی بنانے کا تہیہ کر لیا ہے۔ اس مقصد کے لیے حکومت نے ایک جامع حکمت عملی تیار کی ہے جس کے تحت مواصلاتی نیٹ ورک کو بہتر بنانے والی کمپنیوں کو خصوصی مراعات دی جائیں گی۔ حکومتی فیصلوں کے مطابق ایسے تمام علاقوں میں موبائل ٹاورز لگانے کے لیے سرکاری زمین بالکل مفت فراہم کی جائے گی اور اس پر کسی قسم کا کرایہ وصول نہیں کیا جائے گا۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد ٹیلی کام آپریٹرز کے لیے سرمایہ کاری کے اخراجات کو کم کرنا ہے تاکہ وہ پسماندہ خطوں میں بھی اپنے نیٹ ورک کو وسعت دے سکیں۔
زمین کی مفت فراہمی کے علاوہ حکومت کی جانب سے ان ٹاورز کے لیے بجلی کی ترسیل پر بھی خصوصی رعایت دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ دور دراز علاقوں میں بجلی کے اخراجات اور بلوں کی وجہ سے ٹاورز کو چلانا کمپنیوں کے لیے کافی مشکل ہوتا ہے، جس کو مدنظر رکھتے ہوئے حکام نے سستی بجلی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے نہ صرف ٹیلی کام کمپنیوں کے انتظامی اخراجات میں کمی آئے گی بلکہ وہ بلا تعطل سروسز بھی فراہم کرنے کے قابل ہو سکیں گی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس پالیسی سے ان علاقوں کے باسیوں کو بہت فائدہ ہوگا جو تاحال ڈیجیٹل دنیا سے کٹے ہوئے ہیں اور مواصلاتی سہولیات سے محروم ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کی تکمیل سے ریاست کے ہر کونے میں تیز رفتار انٹرنیٹ اور موبائل سروسز کی رسائی ممکن ہو سکے گی۔ اس سے نہ صرف تعلیمی اور طبی شعبوں میں بہتری آئے گی بلکہ دیہی معیشت کو بھی زبردست فروغ ملے گا۔ ڈیجیٹل پاکستان اور ڈیجیٹل انڈیا جیسی مہمات کے تناظر میں پڑوسی ملک میں اس قسم کے اقدامات کو سراہا جا رہا ہے جہاں ٹیکنالوجی کی رسائی کو بنیادی انسانی حق سمجھا جانے لگا ہے۔ آندھرا پردیش حکومت کی یہ نئی پالیسی دیگر ریاستوں کے لیے بھی ایک بہترین مثال بن سکتی ہے جو پسماندہ اور دور دراز علاقوں میں ڈیجیٹل تقسیم کو ختم کرنے کی خواہاں ہیں۔