Technology
بھارت میں اے آئی ملازمتوں کی رپورٹ: نومورا کا انکشاف
بین الاقوامی مالیاتی ادارے نومورا کی نئی تحقیق کے مطابق بھارت میں مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں ملازمتوں کا خالص اضافہ نوکریوں کے نقصان سے اکاون ہزار سے زائد زیادہ رہا ہے۔ اگرچہ اے آئی نے روایتی اور ابتدائی درجے کی ملازمتوں کو متاثر کیا ہے، مجموعی طور پر اس کے اثرات مثبت دیکھے گئے ہیں۔
نومورا کی ایک حالیہ تحقیقی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت میں مصنوعی ذہانت (AI) کے باعث ملازمتوں کے مواقع پیدا ہونے کی رفتار روایتی نوکریوں کے خاتمے کی نسبت کافی تیز ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں اے آئی سے جڑے روزگار کا خالص مثبت اثر دیکھا گیا ہے جس کی تعداد اکاون ہزار سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ نئی ٹیکنالوجی نے مجموعی طور پر ملازمتوں کے بازار کو سکڑانے کے بجائے اسے وسعت دی ہے۔
تاہم، اس رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت نے روایتی کرداروں میں بڑی تبدیلیاں پیدا کی ہیں اور خاص طور پر انٹری لیول یعنی ابتدائی درجے کے کارکنان کے لیے طلب میں کمی واقع ہوئی ہے۔ کمپنیاں اب ایسے افراد کی تلاش میں ہیں جو مصنوعی ذہانت کے اوزاروں اور جدید ڈیجیٹل سسٹمز کے ساتھ کام کرنے کی مہارت رکھتے ہوں۔ روایتی جاب مارکیٹ میں اس تبدیلی کی وجہ سے نئے آنے والوں کو ملازمت کے حصول میں کچھ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کے اس دور میں افرادی قوت کو نئے سرے سے ہنر مند بنانا انتہائی ضروری ہو چکا ہے۔ کمپنیاں تیزی سے اے آئی اور آٹومیشن کو اپنے نظام کا حصہ بنا رہی ہیں تاکہ پیداواری صلاحیت کو بڑھایا جا سکے۔ حکومت اور تعلیمی اداروں کو بھی چاہیے کہ وہ مارکیٹ کی اس نئی طلب کے مطابق نوجوانوں کو تربیت فراہم کریں تاکہ وہ مستقبل کے چیلنجز سے نمٹ سکیں۔
نومورا کی اس رپورٹ نے دنیا بھر میں جاری اس بحث کو ایک نئی سمت دی ہے کہ آیا مصنوعی ذہانت انسانی لیبر کی جگہ لے لے گی یا نہیں۔ بھارتی تناظر میں فی الحال یہ بات سامنے آئی ہے کہ اگرچہ نوعیت بدل رہی ہے لیکن مواقع میں مجموعی طور پر اضافہ ہو رہا ہے، جو کہ ملک کی ترقیاتی معیشت کے لیے ایک حوصلہ افزا علامت ہے۔