LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات: کانگریس کے دوروں کے پندرہ سال

News Image
گزشتہ پندرہ سالوں کے دوران امریکی قانون سازوں کے اسرائیل کے باقاعدہ دوروں نے دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور سیاسی تعاون کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ان دوروں کے ذریعے امریکی اراکین کانگریس نے زمینی حقائق کا قریب سے مشاہدہ کیا اور اہم پالیسی فیصلوں کی تشکیل میں مدد کی۔
گزشتہ پندرہ سالوں کے دوران درجنوں امریکی قانون سازوں نے امریکہ اور اسرائیل کے مابین اس اہم اور تیزی سے زیر بحث اتحاد کو قریب سے دیکھنے کے مواقع حاصل کیے ہیں۔ سال 2011 سے لے کر اب تک، یو ایس اسرائیل ایجوکیشن ایسوسی ایشن اور دیگر اداروں کے تحت ہونے والے ان دوروں نے واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان سفارتی اور دفاعی تعاون کو نئی جہتیں عطا کی ہیں۔ ان دوروں کا بنیادی مقصد امریکی اراکینِ کانگریس کو خطے کے پیچیدہ سیکیورٹی ماحول سے براہِ راست روشناس کرانا اور دوطرفہ تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کرنا رہا ہے۔ ان دوروں کے دوران قانون سازوں کو ملک کے دفاعی نظام، بالخصوص آئرن ڈوم (Iron Dome) کی کارکردگی کا مشاہدہ کرنے کا موقع ملا۔ امریکی کانگریس نے اس دفاعی نظام کے لیے فنڈنگ کی منظوری دینے میں ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے، اور زمینی حقائق کا براہِ راست مشاهدہ کرنے والے ان قانون سازوں نے اس تعاون کو جاری رکھنے کے لیے بھرپور حمایت فراہم کی۔ اس کے علاوہ، ان دوروں نے خطے میں امن اور تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے میں بھی مدد کی، جو بعد میں ابراہم معاہدے (Abraham Accords) جیسے تاریخی سفارتی اقدامات کی شکل میں سامنے آئیں۔ اگرچہ ان دوروں کو دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے، تاہم حالیہ برسوں میں امریکی سیاست کے اندر اسرائیل کے حوالے سے مباحثے میں بھی تبدیلی آئی ہے۔ کچھ حلقوں کی طرف سے ان دوروں اور ان کے مقاصد پر سوالات بھی اٹھائے گئے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی قانون سازوں کے درمیان بھی مشرق وسطیٰ کی پالیسی پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ اس کے باوجود، پندرہ سالہ تاریخ گواہ ہے کہ کانگریس کے اراکین کے ان دوروں نے دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو گہرا کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ مستقبل کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات کو برقرار رکھنے اور مزید استحکام بخشنے کے لیے اس قسم کے دوطرفہ دوروں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ بدلتی ہوئی عالمی سیاست اور مشرق وسطیٰ کے نازک حالات میں یہ دورے امریکی پالیسی سازوں کو زمینی حقائق سے باخبر رکھنے کا ایک مؤثر ذریعہ بنے ہوئے ہیں، جو آنے والے وقتوں میں بھی دونوں ممالک کی پالیسیوں پر اثر انداز ہوتے رہیں گے۔