LIVE
Loading Breaking News...

ترکیہ سعودی عرب پاکستان دفاعی معاہدہ اور نئے ممکنہ اراکین

News Image
ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے دفاعی معاہدے کے بعد بین الاقوامی سطح پر اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ کون سے دیگر مسلم ممالک اس اتحاد کا حصہ بن سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ خطے میں سلامتی اور دفاعی تعاون کو ایک نئی سمت فراہم کرے گا۔
حالیہ دنوں میں ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے ایک اہم دفاعی معاہدے نے بین الاقوامی میڈیا اور دفاعی ماہرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے۔ اس تاریخی معاہدے کے بعد اب یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا خطے کے دیگر بااثر مسلم ممالک بھی اس دفاعی اتحاد کا حصہ بن سکتے ہیں یا نہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، یہ معاہدہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں سکیورٹی کے حوالے سے نئی صف بندیوں کا آغاز ہو چکا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس دفاعی معاہدے کا بنیادی مقصد رکن ممالک کے درمیان عسکری تعاون کو فروغ دینا، مشترکہ فوجی مشقوں کا انعقاد کرنا اور دفاعی صنعت میں ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اس مثلث نما اتحاد میں دیگر مسلم فوجی لحاظ سے طاقتور ممالک جیسے کہ انڈونیشیا، ملائیشیا یا خلیجی خطے کے کچھ دیگر ممالک کی شمولیت کے امکانات پر بھی غور کیا جا سکتا ہے، تاہم اس حوالے سے باضابطہ طور پر تاحال کوئی حتمی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ دوسری جانب، کچھ عالمی تجزیہ کاروں کی طرف سے یہ قیاس آرائیاں بھی کی جا رہی ہیں کہ اس معاہدے کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی سے نمٹنا ہے۔ تاہم، ترکیہ اور دیگر متعلقہ ممالک کی طرف سے ان تاثرات کو سختی سے مسترد کیا گیا ہے اور واضح کیا گیا ہے کہ اس دفاعی تعاون کا ہدف کسی ملک کے خلاف محاذ آرائی نہیں بلکہ باہمی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس معاہدے کے دائرہ کار میں مزید وسعت آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ جیسے جیسے اس اتحاد کے خدوخال واضح ہوں گے، یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا خطے کے دیگر ممالک اس میں شمولیت کی خواہش ظاہر کرتے ہیں یا نہیں۔ یہ دفاعی شراکت داری آنے والے وقتوں میں مسلم دنیا کے عسکری منظر نامے پر گہرے اثرات مرتب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔