LIVE
Loading Breaking News...

مغربی ایشیا جنگ اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کی تازہ ترین صورتحال

News Image
متحدہ عرب امارات نے الزام عائد کیا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں اس کے ایک تیل بردار جہاز کو میزائل حملے کا نشانہ بنایا ہے۔ دوسری طرف عمان نے اسٹریٹ آف ہرمز کے تنازع پر جاری مذاکرات میں کچھ پیش رفت کی تصدیق کی ہے۔
مغربی ایشیا میں جاری تنازع کے دوران خطے میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے باضابطہ طور پر دعویٰ کیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب اس کے ایک تیل بردار جہاز (ADNOC vessel) کو میزائل حملے کا نشانہ بنایا ہے۔ اس واقعے کے بعد بین الاقوامی سطح پر بحری جہازوں کی نقل و حرکت اور توانائی کی سپلائی کے حوالے سے شدید خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ عرب لیگ سمیت خطے کے متعدد عرب ممالک نے اس مبینہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے بین الاقوامی قوانین اور میری ٹائم سیکیورٹی کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ دوسری جانب عمان کی ثالثی میں جاری سفارتی کوششوں کے حوالے سے مثبت اشارے بھی سامنے آئے ہیں، جہاں عمانی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے امور اور جہاز رانی کی بحالی کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے۔ تہران کی جانب سے اسٹریٹ آف ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کے لیے کچھ مخصوص شرائط بھی رکھی گئی ہیں، جس کی وجہ سے بحری تجارت کا مستقبل تاحال غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی اور قیمتوں پر اس کشیدگی کے گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا بھر کے تیل کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم بحری راستہ ہے۔ تمام متعلقہ فریقین اور عالمی طاقتیں اس تنازع کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے اور مزید جنگی پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سر جوڑ کر بیٹھی ہیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں نے بھی فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ خطے میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھا جا سکے اور عالمی معیشت کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔