LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان شرح سود 11.5 فیصد، معاشی صورتحال اور توانائی کی قیمتیں

News Image
پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے خطرے کے پیش نظر شرح سود کو ساڑھے گیارہ فیصد پر برقرار رکھا ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس اقدام سے ملکی معیشت کو استحکام ملے گا۔
اسلام آباد (نیکسورا نیوز) پاکستان کے مالیاتی حکام نے موجودہ ملکی اور بین الاقوامی معاشی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اہم فیصلہ کرتے ہوئے کلیدی شرح سود کو ساڑھے گیارہ فیصد پر برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ معاشی حلقوں کی جانب سے اس فیصلے کو سراہا جا رہا ہے کیونکہ اس وقت عالمی سطح پر کئی طرح کے چیلنجز منہ پھاڑے کھڑے ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی نے مشرق وسطیٰ کے حالات کو کشیدہ کر دیا ہے، جس کے براہ راست اثرات عالمی منڈی میں تیل اور توانائی کی قیمتوں پر پڑنے کا شدید خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، لہذا عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کسی بھی قسم کا اتار چڑھاؤ پاکستانی معیشت کے لیے مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ اسی پس منظر میں مرکزی بینک نے احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے مانیٹری پالیسی کو فی الحال مستحکم رکھنے کو ہی ترجیح دی ہے۔ دوسری جانب، ملکی سطح پر مہنگائی کی شرح میں بتدریج بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے، تاہم بیرونی دباؤ اور جیگرافیکل سیاسی کشیدگی کے باعث معاشی ٹیم کسی بھی قسم کا رسک لینے سے گریزاں ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ حالات پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے اور معیشت کو سست روی سے بچانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ کاروباری برادری نے بھی اس فیصلے پر ملا جلا ردعمل ظاہر کیا ہے، کچھ حلقوں کا ماننا ہے کہ شرح سود میں کمی نہ ہونے سے کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملنے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے، لیکن مجموعی طور پر ملکی معاشی استحکام کے لیے یہ ایک متوازن قدم ہے۔