World
سومالی قزاقوں کے یرغمالی پاکستانی ملاحوں کی حکومت سے رہائی کی اپیل
سومالی قزاقوں کے ہاتھوں گزشتہ سو دنوں سے زائد عرصے سے یرغمال پاکستانی ملاحوں نے ایک بار پھر حکام سے رہائی کے لیے فوری اقدامات کی اپیل کی ہے۔ تیل بردار جہاز ’آنر 25‘ کے عملے میں 10 پاکستانی بھی شامل ہیں جن کی صحت دن بدن گرتی جا رہی ہے۔
سومالی قزاقوں کے ہاتھوں تیل بردار جہاز ’آنر 25‘ پر سوار پاکستانی ملاحوں کو یرغمال بنے ہوئے سو دن سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، جس کے بعد عملے نے اپنی رہائی کے لیے ایک بار پھر حکومتِ پاکستان سے گہری التجا کی ہے۔ پالاؤ کے جھنڈے والے اس جہاز کو گزشتہ 21 اپریل کو صومالیہ کے ساحلی علاقے پنٹ لینڈ کے قریب مسلح قزاقوں نے اغوا کر لیا تھا۔ اس جہاز پر عملے کے 17 سے 19 افراد سوار ہیں جن میں 10 پاکستانی بھی شامل ہیں۔ تین ماہ سے زائد کا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود تاوان کی ادائیگی یا مذاکرات کے حوالے سے کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی ہے، جبکہ 3 ملین ڈالر کے قریب تاوان کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ قیدیوں کی بگڑتی ہوئی صحت اور خراب حالت پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ سامنے آنے والی نئی ویڈیو پیغامات میں پاکستانی اور غیر ملکی یرغمالیوں کو انتہائی پریشان کن حالت میں دیکھا جا سکتا ہے، جن میں سے بیشتر بیمار اور کمزور نظر آ رہے ہیں۔ یاسر خان نامی ایک پاکستانی یرغمالی نے اپنے بیان میں بتایا کہ عملے کے کئی ارکان بیمار ہو چکے ہیں اور انہیں علاج کی کوئی سہولت یا دوائیں میسر نہیں ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وفاقی وزیر بحری امور جنید انور چوہدری سے پرزور اپیل کی کہ وہ بہت دیر ہونے سے پہلے اور مزید نقصان سے بچنے کے لیے ان کی فوری رہائی کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن سے بھی مدد کی درخواست کی کیونکہ وہ پہلے ہی اس سلسلے میں کافی کوششیں کر چکے ہیں۔ ایک اور پاکستانی یرغمالی حسین یوسف نے بھی وزیراعظم اور عسکری قیادت سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے پہلے عملی قدم اٹھایا جائے۔ ادھر دفتر خارجہ کے ترجمان نے اتوار کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یرغمالیوں کی اب تک رہائی نہ ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وزارت انسانی حقوق، وزارت بحری امور اور دیگر متعلقہ ادارے اس مسئلے پر مسلسل کام کر رہے ہیں اور صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ ترجمان کے مطابق سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ یہ افراد صومالیہ کے ایک خودمختار خطے میں قید ہیں، جہاں زمینی حقائق، قبائلی نظام اور بااثر شخصیات کی وجہ سے پیچیدگیاں حائل ہیں۔ تاہم حکومت صومالی حکومت اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مستقل رابطے میں ہے تاکہ تمام ممکنہ کوششوں کے ذریعے ملاحوں کو جلد از جلد وطن واپس لایا جا سکے۔ یاد رہے کہ جہاز کے عملے میں پاکستانیوں کے علاوہ سات انڈونیشیائی، ایک بھارتی اور ایک سری لنکن شہری بھی شامل ہے۔ اغوا کے بعد سے اب تک عملے کی جانب سے کئی جذباتی ویڈیوز اور پیغامات سامنے آ چکے ہیں جن میں صاف پانی، خوراک اور ادویات کی شدید قلت کا شکوہ کیا گیا ہے۔