LIVE
Loading Breaking News...

آئی فون 17 کی قیمتوں میں اضافے کی افواہ اور چپ کی قلت

News Image
نئی افواہوں کے مطابق ایپل کی جانب سے آئی فون 17 کی قیمتوں میں آئندہ ہفتے کے اوائل میں ہی اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ اس ممکنہ اضافے کی بنیادی وجہ سیمی کنڈکٹر چپ کی قلت اور سپلائی چین کے چیلنجز بتائے جا رہے ہیں۔
ٹیکنالوجی کی دنیا سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ایپل کے شائقین کے لیے ایک تشویشناک خبر سامنے آئی ہے جہاں نئی افواہوں میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آنے والے آئی فون 17 کی قیمتوں میں توقع سے کہیں زیادہ جلدی اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ ان اطلاعات کے مطابق قیمتوں میں یہ ردوبدل رواں ہفتے کے پیر کے روز تک دیکھنے میں آ سکتا ہے، جو کہ مارکیٹ کے روایتی رجحانات سے ہٹ کر ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے پیچھے عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کے شعبے کو درپیش چیلنجز اور بالخصوص چپ کی قلت ایک اہم محرک کے طور پر کام کر رہی ہے۔ صنعتی ذرائع کا ماننا ہے کہ سیمی کنڈکٹر چپس کی تیاری اور ترسیل میں حائل رکاوٹیں دنیا بھر کے بڑے مینوفیکچررز کو متاثر کر رہی ہیں، اور ایپل بھی اس بحران سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ اس صورتحال کے باعث پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے، جس کا بوجھ اب ممکنہ طور پر صارفین پر ڈالا جا سکتا ہے۔ ایپل کی جانب سے تاحال اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، تاہم مارکیٹ کے ماہرین کا خیال ہے کہ اگر یہ افواہیں درست ثابت ہوتی ہیں تو اس سے پریمیم اسمارٹ فونز کے بازار میں ایک نیا رجحان جنم لے سکتا ہے۔ دوسری جانب، صارفین اور مارکیٹ کے مبصرین اس ممکنہ اضافے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اگرچہ ہر سال نئے آئی فون ماڈلز کی رونمائی کے موقع پر قیمتوں میں معمولی اتار چڑھاؤ دیکھا جاتا ہے، لیکن اس بار چپ کی قلت جیسے عوامل کی وجہ سے قیمتوں میں متوقع اضافہ نسبتاً زیادہ ہو سکتا ہے۔ ٹیکنالوجی مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس اقدام سے حریف کمپنیوں کو بھی اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرنے کا موقع ملے گا، کیونکہ تمام بڑے برانڈز کو سپلائی چین کے انہی مسائل کا سامنا ہے۔ آنے والے دنوں میں صورتحال مزید واضح ہو جائے گی جب ایپل کی جانب سے باضابطہ اعلانات سامنے آئेंगे۔ اس وقت تک ٹیک شائقین اور خریدار اس تذبذب کا شکار ہیں کہ آیا انہیں اپنے پسندیدہ اسمارٹ فون کے لیے زیادہ قیمت چکانی پڑے گی یا نہیں۔ نیکسورا نیوز اردو اس معاملے پر مزید اپ ڈیٹس کے ساتھ اپنے قارئین کو باخبر رکھے گا۔