Health
فلو ویکسین میں بہتری لانا کیوں مشکل ہے؟ اہم طبی رپورٹ
امریکہ کے محکمہ صحت نے حال ہی میں کروڑوں ڈالرز کے ایم آر این اے ویکسین پروجیکٹس منسوخ کر دیے ہیں۔ اس فیصلے کے بعد فلو اور دیگر وائرل بیماریوں کے خلاف نئی ویکسینز کی تیاری پر شدید سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔
طبی ماہرین اور محققین کے مطابق فلو کی ویکسین کو بہتر بنانا اور اس کی افادیت میں اضافہ کرنا طبی دنیا کے پیچیدہ ترین مسائل میں سے ایک ہے۔ ہر سال فلو کا وائرس اپنی شکل تبدیل کرتا ہے جس کی وجہ سے پچھلے سال کی ویکسین نئے سیزن کے لیے اتنی موثر ثابت نہیں ہوتی جتنا کہ اس کی توقع کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ویکسین تیار کرنے والے اداروں کو ہر سال نئے سرے سے وائرس کی اقسام کا تخمینہ لگانا پڑتا ہے اور اسی حساب سے خوراکیں تیار کرنی پڑتی ہیں جو کہ ایک انتہائی کٹھن عمل ہے۔
حالیہ دنوں میں اس شعبے میں اس وقت مزید پیچیدگی پیدا ہوئی جب متعلقہ حکومتی اور صحت کے اداروں کی طرف سے ویکسین سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔ رپورٹس کے مطابق محکمہ صحت کی سطح پر فنڈنگ اور ترجیحات میں تبدیلی کی گئی ہے جس سے نئی نسل کی ویکسین ٹیکنالوجی پر کام کرنے والے کئی منصوبے متاثر ہوئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ روایتی طریقوں کے مقابلے میں نئی ٹیکنالوجیز جیسے کہ ایم آر این اے پر مبنی ویکسینز اس عمل کو تیز کر سکتی تھیں، لیکن پالیسی تبدیلیوں اور فنڈز کی کٹوتیاں اس تحقیق کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن رہی ہیں۔
فلو کے وائرس کی یہ خاصیت ہے کہ وہ انسانی مدافعتی نظام کو چکما دینے میں ماہر ہوتا ہے اور تیزی سے میوٹیشن کرتا ہے۔ اس بنا پر روایتی ویکسینز کی تیاری میں مہینوں کا وقت درکار ہوتا ہے، جس دوران وائرس مزید تبدیل ہو چکا ہوتا ہے۔ سائنسدان طویل عرصے سے اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ ایک ایسی عالمگیر فلو ویکسین تیار کی جائے جو وائرس کے تمام مختلف خاندانوں کے خلاف موثر ثابت ہو سکے، مگر مالی معاونت اور پالیسیوں کے عدم استحکام کی وجہ سے اس منزل تک پہنچنا ایک طویل المدتی خواب بنا ہوا ہے۔
طبی برادری کا ماننا ہے کہ اگر فلو کی ویکسینز میں دیرپا اور انقلابی بہتری لانی ہے تو حکومتوں اور نجی اداروں کو مسلسل طویل المدتی سرمایہ کاری جاری رکھنا ہوگی۔ بصورت دیگر، دنیا ہر سال فلو کے سیزن کے دوران ایک لامتناہی چکر میں پھنسی رہے گی جہاں ہر بار نئے خطرات سے نمٹنے کے لیے پرانی اور محدود اثر رکھنے والی ویکسینز پر ہی انحصار کرنا پڑے گا۔