LIVE
Loading Breaking News...

ملازمت کے انٹرویوز میں اے آئی ایماٹارز کا استعمال اور امیدواروں کا نیا طریقہ

News Image
ملازمتوں کے لیے بھرتی کرنے والے ادارے اب پہلے مرحلے کے انٹرویوز کے لیے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی ایماٹارز کا استعمال کر رہے ہیں۔ اس کے جواب میں امیدواروں نے بھی اپنے اے آئی ڈیجیٹل تماثیل یا ایماٹارز کو انٹرویوز میں شرکت کے لیے بھیجنا شروع کر دیا ہے۔
جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں ملازمتوں کے حصول اور بھرتی کے روایتی طریقوں میں ایک حیرت انگیز اور دلچسپ تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔ ابتدائی مراحل کے جاب انٹرویوز میں اب انسانی چہروں کے بجائے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) ایماٹارز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ ڈیجیٹل انسان نہ صرف امیدوار کی آواز کی نقل کرتے ہیں بلکہ ان کی حبیہ شکل و شباہت کو بھی اسکرین پر ہو بہو پیش کرتے ہیں، جس سے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ سامنے بیٹھا شخص اصل ہے یا کوئی کمپیوٹر سے تیار کردہ ڈیجیٹل ماڈل۔ آسٹریلیا کے شہر سڈنی سے تعلق رکھنے والی ریکروٹر لانا کرساناوا کے مطابق، ان کے سامنے ایسے واقعات آئے ہیں جہاں امیدواروں نے اپنے انٹرویوز خود دینے کے بجائے اے آئی ٹیکنالوجی کی مدد سے تیار کردہ اپنے ڈیجیٹل ایماٹارز کو اسکرین پر اتارا۔ یہ ایماٹارز پہلے سے طے شدہ سوالات کے جوابات دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور انٹرویو لینے والے کو یہ باور کراتے ہیں کہ وہ کسی حقیقی امیدوار سے بات کر رہے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی نے جہاں ایک طرف بھرتی کے عمل کو تیز اور جدید بنایا ہے، وہیں دوسری طرف ریکروٹرز کے لیے نئے اور پیچیدہ چیلنجز بھی پیدا کر دیے ہیں کیونکہ اب انہیں اس بات کی تصدیق کرنی پڑتی ہے کہ آیا درخواست گزار واقعی خود موجود ہے یا کوئی مصنوعی ذہانت کا پروگرام۔ دوسری جانب امیدواروں کا ماننا ہے کہ بڑھتے ہوئے مقابلے اور متعدد ابتدائی اسکریننگ سیشنز سے بچنے کے لیے وہ ان شارٹ کٹس کا سہارا لینے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں جاب مارکیٹ میں انسان اور اے آئی کے درمیان اس قسم کی چپقلش مزید بڑھے گی، جس سے تمام کمپنیوں کو اپنے انٹرویو کے طریقہ کار میں بنیادی تبدیلیاں لانے کی ضرورت پڑے گی تاکہ کسی بھی قسم کے فراڈ یا نقالی سے بچا جا سکے۔