World
اسرائیل کا ٹرمپ کا غزہ امن منصوبہ مسترد کرنے کا اعلان
اسرائیل نے امریکی صدراتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کیے جانے والے غزہ کے لیے 15 نکاتی امن بورڈ کے منصوبے کو ماننے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ خطے میں جاری کشیدگی اور طویل جنگ کے تناظر میں سامنے آیا ہے جو بین الاقوامی سفارتی کوششوں پر ایک اور کاری ضرب ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق اسرائیل نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ کے حوالے سے پیش کردہ 15 نکاتی امن بورڈ کے منصوبے کو مسترد کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے اس منصوبے کے تحت خطے میں دیرپا امن قائم کرنے اور تنازع کے حل کے لیے ایک جامع خاکہ پیش کرنے کی کوشش کی تھی تاہم اسرائیلی حکومت نے اس تجویز کو اپنے سلامتی اور اسٹریٹجک مفادات کے خلاف قرار دیتے ہوئے اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اس پیش رفت نے بین الاقوامی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے کیونکہ غزہ میں جاری شدید انسانی بحران اور جنگ کے خاتمے کے لیے دنیا بھر کے رہنما کسی نہ کسی سفارتی حل کے متلاشی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے خطے میں جاری کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے اور سفارتی سطح پر امن کے قیام کی تمام کوششیں شدید تعطل کا شکار ہو سکتی ہیں۔ امریکی سیاسی حلقوں میں بھی اس ردعمل پر ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے جہاں کچھ لوگ اسرائیل کے اس موقف کو اس کا دفاعی حق قرار دے رہے ہیں تو وہیں بیشتر بین الاقوامی ادارے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ جنگ کے خاتمے اور انسانی امداد کی فراہمی کے لیے تمام فریقین کو لچک کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ مستقبل قریب میں اس تنازع کے حل کے لیے کون سا نیا لائحہ عمل اختیار کیا جاتا ہے، یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن فی الحال امن کی یہ امید بھی دم توڑتی نظر آ رہی ہے۔