LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ اور ایران کے بالواسطہ مذاکرات اور سفارتی تعطل

News Image
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری بالواسطہ مذاکرات کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں فریقین ایک دوسرے کی بات کو درست انداز میں سمجھنے میں ناکام رہے ہیں۔ سفارتی سطح پر جاری ان رابطوں میں سنجیدہ نوعیت کے اختلافات بدستور برقرار ہیں۔
واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری بالواسطہ مذاکرات کے حوالے سے بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے مؤقف کو سمجھنے میں مشکلات کا شکار ہیں۔ سفارتی حلقوں کے مطابق، فریقین کے درمیان رابطے تو کسی نہ کسی شکل میں جاری ہیں لیکن اصل مدعا اور مطالبات پر گہرے اختلافات بدستور موجود ہیں۔ امریکہ اور ایران کے مابین یہ अप्रत्यक्ष یعنی بالواسطہ بات چیت خطے میں کشیدگی کو کم کرنے اور دیرینہ تنازعات کو حل کرنے کی غرض سے شروع کی گئی تھی، تاہم زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان اب بھی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ جب تک فریقین کے درمیان براہ راست اور لچکدار رویہ اختیار نہیں کیا جاتا، اس وقت تک اس قسم کے بالواسطہ رابطوں سے کسی بڑے اور پائیدار سفارتی حل کی توقع کرنا قبل از وقت ہوگا۔ اس صورتحال نے خطے کے دیگر ممالک کو بھی تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے کیونکہ دونوں حریف طاقتوں کے درمیان عدم اتفاق کے اثرات پورے خطے کی سلامتی پر براہ راست پڑتے ہیں۔ عالمی برادری اور ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ممالک کی طرف سے مسلسل زور دیا جا رہا ہے کہ دونوں فریقین انتہائی سخت گیر مؤقف سے گریز کریں اور سفارتی آداب کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے حقیقی مذاکرات کی راہ ہموار کریں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا انتہائی اہم ہوگا کہ آیا امریکہ اور ایران اپنے ان اختلافات پر قابو پا سکیں گے یا پھر یہ بالواسطہ بات چیت بھی بے نتیجہ ثابت ہوگی۔