LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیل کا غزہ امن منصوبے سے انکار، نیتن یاہو کا مؤقف

News Image
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اتوار کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹنرمپ کی جانب سے پیش کردہ غزہ کے امن منصوبے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ جب تک حماس کو حقیقی طور پر غیر مسلح نہیں کیا جاتا، اسرائیلی افواج غزہ سے کوئی انخلا نہیں کریں گی۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اتوار کے روز اس امن منصوبے کو صریحاً مسترد کر دیا ہے جس کی تعریف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کی تھی۔ انہوں نے اپنے سخت گیر سیاسی حلقوں کے دباؤ اور آئندہ انتخابات کے پیش نظر واضح کیا ہے کہ حماس کی 'حقیقی' غیر مسلح کاری سے پہلے اسرائیلی افواج کا غزہ سے کسی بھی قسم کا فوجی انخلا عمل میں نہیں لایا جائے گا۔ کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ اسرائیل اس 15 نکاتی دستاویز کو یکسر مسترد کرتا ہے جسے جولائی کے آخر میں حماس کی جانب سے سراہا گیا تھا۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ جب تک حماس کے پاس موجود تمام ہتھیار تلف نہیں کیے جاتے اور وہ غیر مسلح نہیں ہوتے، اسرائیلی فوج اپنی کارروائیاں جاری رکھے گی اور شہریوں اور فوجیوں کے خلاف خطرات کو ناکام بناتی رہے گی۔ یاد رہے کہ یہ منصوبہ اکتوبر میں اعلان کردہ امریکی قیادت میں جنگ بندی کا حصہ ہے، جس نے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کو کم تو کیا ہے لیکن مکمل ختم نہیں کیا۔ اس دستاویز کے تحت حماس کو اپنے ہتھیار ایک فلسطینی گورننگ باڈی کے حوالے کرنا تھے اور اس کے بدلے میں اسرائیل نے بتدریج انخلا کرنا تھا۔ تاہم، اسرائیل اس فارمولے کو سختی سے مسترد کرتا ہے اور اس کا اصرار ہے کہ حماس کو اپنے ہتھیار خود تباہ کرنے ہوں گے۔ نیتن یاہو نے کہا کہ وہ اس معاملے پر امریکہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور اپنے مؤقف پر ڈٹے رہیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم صرف اصل غیر مسلح کاری کی بات کر رہے ہیں، کسی فرضی یا کاغذی ہتھیار ڈالنے کی نہیں۔