Technology
کوانٹم ٹیکنالوجی میں بڑی پیشرفت: عام درجہ حرارت پر کام کرنے والا طلائی کرسٹل تیار
سائنسدانوں نے ایک ایسا نیا مادہ تیار کر لیا ہے جو کوانٹم روشنی کی مختلف حالتوں کو عام درجہ حرارت پر ترتیب دینے اور منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس اہم ترین دریافت سے وزنی اور انتہائی سرد ریفریجریشن سسٹمز کی ضرورت ختم ہونے کا امکان روشن ہو گیا ہے۔
سائنسدانوں نے کوانٹم ٹیکنالوجی کی تاریخ میں ایک اہم ترین سنگ میل عبور کرتے ہوئے دنیا کا پہلا ایسا کوانٹم مادہ تیار کر لیا ہے جو عام کمرے کے درجہ حرارت پر روشنی کی مختلف کوانٹم حالتوں کو الگ کرنے اور انہیں منتقل کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ اس نئی پیشرفت سے کوانٹم سسٹمز کو چلانے کے لیے درکار اس بھاری بھرکم اور پیچیدہ ریفریجریشن کے نظام کی ضرورت ہمیشہ کے لیے ختم ہونے کی امید پیدا ہو گئی ہے، جو اب تک اس ٹیکنالوجی کے راستے میں ایک بڑی رکاوٹ سمجھا جاتا تھا۔
محققین کے مطابق، یہ نیا اور منفرد مادہ خالص سونے کی ایک انتہائی باریک فلم پر مشتمل ہے جس کے اندر سیکڑوں کی تعداد میں باریک ترین نینو اسٹرکچرز یا سوراخ تراشے گئے ہیں۔ یہ پیچیدہ ڈیزائن روشنی کے فوٹونز کے ساتھ اس طرح تعامل کرتا ہے کہ وہ عام درجہ حرارت پر بھی اپنی مخصوص کوانٹم خصوصیات کو برقرار رکھتے ہوئے بغیر کسی نقصان کے سفر کر سکتے ہیں۔ روایتی طور پر کوانٹم کمپیوٹرز اور سینسرز کو بیرونی شور اور تھرمل ڈسٹربنس سے بچانے کے لیے مطلق صفر یعنی انتہائی کم درجہ حرارت پر رکھنا پڑتا ہے، جس کے لیے مائع ہیلیم اور بڑے کولنگ سسٹمز کی ضرورت ہوتی ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اس نئی دریافت کے بعد اب مستقبل کے کوانٹم آلات زیادہ چھوٹے، سستے اور عملی طور پر قابلِ استعمال بن سکیں گے۔ طلائی کرسٹل پر مبنی یہ ٹیکنالوجی نہ صرف کوانٹم کمپیوٹنگ کی رفتار کو تیز کرے گی بلکہ کوانٹم مواصلات اور ڈیٹا سیکیورٹی کے شعبوں میں بھی انقلاب برپا کر دے گی۔ لیبارٹری میں کیے گئے ابتدائی تجربات انتہائی کامیاب رہے ہیں اور اب سائنسدان اسے تجارتی پیمانے پر ڈھالنے کے لیے مزید تحقیق کر رہے ہیں۔
اس پیشرفت کو کوانٹم فزکس کے میدان میں ایک گیم چنجر قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے دنیا بھر کی لیبارٹریز میں کام کرنے والے محققین کے اخراجات میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔ آنے والے برسوں میں، عام درجہ حرارت پر کام کرنے والے یہ کوانٹم سسٹمز ہماری روزمرہ کی زندگی میں سمارٹ ڈیوائسز اور انٹرنیٹ سیکیورٹی کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیں گے، جس سے تیز رفتار اور محفوظ ترین کمیونیکیشن کا خواب شرمندہ تعبیر ہوگا۔