World
واشنگٹن ڈی سی میں مچھر چھوڑنے کی حیران کن وجہ
امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں محکمہ صحت کی جانب سے ہزاروں مچھروں کو فضا میں چھوڑا جا رہا ہے۔ بظاہر یہ عمل عجیب معلوم ہوتا ہے لیکن دراصل یہ انسدادِ حشرات کی ایک جدید اور مؤثر حکمت عملی ہے۔
امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں حکام کی جانب سے ہزاروں کی تعداد میں مچھروں کو چھوڑے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جس نے عام شہریوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ بظاہر یہ عمل انتہائی عجیب اور متضاد محسوس ہوتا ہے کیونکہ عام طور پر مچھروں کو ختم کرنے یا ان سے بچنے کی تدابیر کی جاتی ہیں۔ تاہم، ماہرینِ ماحولیات اور محکمہ صحت کے مطابق یہ اقدام دراصل کیڑے مارنے اور مچھروں کی آبادی کو کنٹرول کرنے کا ایک سائنسی اور آزمودہ طریقہ ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت ماحول میں جو مچھر چھوڑے جا رہے ہیں وہ نر مچھر ہیں جو انسانوں کو کاٹتے نہیں ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلانے کا سبب بنتے ہیں۔ ان نر مچھروں کو چھوڑنے کا بنیادی مقصد مادہ مچھروں کے ساتھ ان کی جفت سازی کے عمل کو روکنا یا محدود کرنا ہے۔ جب یہ نر مچھر جنگلی مادہ مچھروں کے ساتھ ملتے ہیں تو اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے انڈے ناپید ہو جاتے ہیں یا ان سے مزید نسل آگے نہیں بڑھتی۔ حیاتیاتی کنٹرول کی اس تکنیک کو دنیا بھر میں کئی مقامات پر کامیابی کے ساتھ استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ خطرناک بیماریوں جیسے کہ ڈینگی اور ملیریا کا باعث بننے والے مچھروں کی افزائش کو روکا جا سکے۔ واشنگٹن ڈی سی کے حکام کا کہنا ہے کہ اس طریقے سے شہر میں کیمیکل اسپرے کے استعمال میں بھی کمی آئے گی جو انسانی صحت اور ماحولیات کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ محکمہ صحت کے ماہرین نے شہریوں کو یقین دلایا ہے کہ اس عمل سے عوام کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے اور یہ شہریوں کی بہتری اور فلاح کے لیے اٹھایا گیا ایک انتہائی اہم قدم ہے۔ آنے والے دنوں میں اس مچھر کنٹرول پروگرام کے مثبت نتائج سامنے آنے کی توقع کی جا رہی ہے، جس کے بعد اس ماڈل کو دیگر شہروں میں بھی نافذ کیا جا سکتا ہے۔