LIVE
Loading Breaking News...

نیتن یاہو کا ٹرمپ کا غزہ پلان مسترد اور حماس کی شکست پر زور

News Image
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا غزہ سے متعلق امن پلان واضح طور پر مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا ہے کہ جب تک حماس مکمل طور پر ہتھیار نہیں ڈال دیتی، اسرائیلی افواج غزہ سے پیچھے نہیں ہٹیں گی۔
مشرق وسطیٰ میں جاری شدید تنازعے کے دوران ایک اہم پیش رفت میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ سے متعلق پیش کردہ امن منصوبے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ اسرائیلی فوج اس وقت تک غزہ کی پٹی سے مکمل انخلا نہیں کرے گی جب تک فلسطینی تنظیم حماس اپنے تمام ہتھیار نہیں ڈال دیتی اور عسکری صلاحیت سے محروم نہیں ہو جاتی۔ نیتن یاہو کا یہ سخت مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں سکیورٹی کی صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔ دوسری جانب، خطے میں کشیدگی صرف غزہ تک محدود نہیں ہے بلکہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی محاذ پر بھی ہلچل مچی ہوئی ہے۔ ایران نے امریکہ کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے اپنے مقاصد واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بات چیت کیلیے مناسب زمین تیار کرنے کے خواہاں ہیں، تاہم عبوری معاہدے کی مبینہ خلاف ورزیوں کے تناظر میں یہ مذاکرات اس وقت تک ممکن نہیں جب تک سابقہ شقوں کا احترام نہیں کیا جاتا۔ تہران نے آبنائے ہرمز کی بندش اور اس کے دوبارہ کھلنے کے معاملے کو بھی امریکی وعدوں کے ساتھ مشروط کر دیا ہے۔ خطے کے دیگر حصوں میں بھی تنازع کے پھیلنے کے خدشات بڑھ رہے ہیں کیونکہ حوثی باغیوں نے سعودی عرب کی ایک تیل تنصیب اور یمنی بندرگاہ پر حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔ اس صورتحال نے بین الاقوامی برادری بالخصوص بڑی طاقتوں کی توجہ مبذول کرا رکھی ہے جو اس بحران کو مزید پھیلنے سے روکنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کا موجودہ رویہ اور علاقائی پراکسی جنگوں میں تیزی خطے کو ایک طویل المدتی جنگ کی طرف دھکیل سکتی ہے، جس سے عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی لائنز شدید متاثر ہو سکتی ہیں۔