Entertainment
ٹیلر سوئفٹ کے گانے وائٹ ہاؤس اور ٹرمپ کی پوسٹس سے ختم
مشہور امریکی گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ کے گانوں کو کاپی رائٹ کے تنازع کے بعد وائٹ ہاؤس اور ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کی ویڈیوز سے ہٹا دیا گیا ہے۔ یہ اقدام ٹیلر سوئفٹ کی ٹیم کی جانب سے مواد کے غیر مجاز استعمال پر اعتراض کے بعد اٹھایا گیا ہے۔
عالمی شہرت یافتہ امریکی گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ کی موسیقی کو ایک بار پھر سیاسی حلقوں میں تنازعات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، وائٹ ہاؤس کے ایک آفیشل ٹِک ٹاک اکاؤنٹ پر شیرح کی گئی ویڈیو سے ٹیلر سوئفٹ کا ایک گانا کاپی رائٹ کلیم کے تحت ہٹا دیا گیا ہے۔ یہ ویڈیو رواں ہفتے کے آغاز میں اپ لوڈ کی گئی تھی جس میں پس منظر کے طور پر معروف پاپ سٹار کی موسیقی کا استعمال کیا گیا تھا، جو کہ اجازت کے بغیر ہونے کی وجہ سے مسائل کا شکار ہو گئی۔
اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم اور ان کے حامیوں کی جانب سے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ٹیلر سوئفٹ کی گانوں کے استعمال پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔ گلوکارہ کی قانونی ٹیم اور انتظامیہ ہمیشہ سے اپنے تخلیقی حقوق اور کاپی رائٹس کے تحفظ کے حوالے سے سخت مؤقف رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹک ٹاک اور دیگر پلیٹ فارمز پر غیر مجاز استعمال کو فوری طور پر رپورٹ کیا گیا، جس کے نتیجے میں ویڈیوز سے گانوں کو غائب کر دیا گیا یا ان کی آڈیو میوٹ کر دی گئی۔
دوسری جانب، سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ ٹیلر سوئفٹ جیسے بڑے فنکاروں کا سیاسی مہمات یا سرکاری اکائونٹس کی جانب سے بغیر اجازت گانوں کا استعمال ایک حساس موضوع بن چکا ہے۔ گلوکارہ کے مداح بھی سوشل میڈیا پر اس معاملے پر کافی متحرک ہیں اور تخلیق کاروں کے حقوق کی حمایت کر رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس قسم کے ڈیجیٹل کاپی رائٹ کے معاملات انٹرنیٹ پر مواد کی تخلیق اور اس کے استعمال کی پالیسیوں کو مزید سخت کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔