LIVE
Loading Breaking News...

یورپی یونین کی میٹا اور ٹک ٹاک کو غلط معلومات روکنے کے لیے سخت ہدایات

News Image
یورپی یونین کے تکنیکی سربراہ نے میٹا اور ٹک ٹاک سے کہا ہے کہ وہ بحران کے اوقات میں غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے فوری اور فیصلہ کن اقدامات کریں۔ یہ ہدایات حال ہی میں سیوطہ میں تارکین وطن کے تنازع کے بعد دونوں پلیٹ فارمز کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے دوران دی گئیں۔
یورپی یونین کے ٹیکنالوجی چیف نے معروف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز میٹا اور ٹک ٹاک پر زور دیا ہے کہ وہ بحران کے اوقات میں غلط معلومات اور فیک نیوز کے خاتمے کے لیے انتہائی فیصلہ کن اقدامات کریں۔ یہ اہم مطالبات یورپی کمیشن کی جانب سے دونوں اداروں کے نمائندگان کے ساتھ جمعہ کو ہونے والی اعلیٰ سطح کی بات چیت کے دوران سامنے آئے ہیں، جس کا بنیادی مقصد حالیہ دنوں میں پیش آنے والے واقعات کے تناظر میں آن لائن سیکیورٹی اور حقائق کی جانچ کے نظام کا جائزہ لینا تھا۔ یورپی کمیشن کے مطابق، گزشتہ ہفتے سیوطہ میں تارکین وطن کے اچانک اضافے اور اس سے جڑے حالات کے بعد سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں پر قابو پانا انتہائی ضروری ہو گیا تھا، تاکہ معاشتی اور علاقائی امن کو برقرار رکھا جا سکے۔ حکام کا ماننا ہے کہ بحرانی حالات میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا کردار بہت حساس ہوتا ہے اور اگر بروقت درست معلومات فراہم نہ کی جائیں تو صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ میٹا (جو فیس بک اور انسٹاگرام کی سرپرست کمپنی ہے) اور ٹک ٹاک کو واضح طور پر ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارمز پر مواد کی نگرانی کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کریں۔ اس کے علاوہ فیک چیکنگ کے عمل کو نہ صرف تیز کیا جائے بلکہ اس میں شفافیت کو بھی یقینی بنایا جائے تاکہ افواہوں اور نفرت انگیز مواد کو فوری طور پر ہٹایا جا سکے۔ یورپی یونین نے خبردار کیا ہے کہ ڈیجیٹل سروسز ایکٹ کے تحت تمام کمپنیوں پر لازم ہے کہ وہ آن لائن سلامتی کے اصولوں کی سختی سے پابندی کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اپنے اندرونی سسٹمز کو ہمیشہ تیار رکھیں۔ دونوں کمپنیوں کے نمائندگان نے یورپی یونین کے تحفظات کا جواب دیتے ہوئے تعاون کا یقین دلایا ہے، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں یورپی ریگولیٹرز کی جانب سے سوشل میڈیا کمپنیوں کی کڑی نگرانی کا سلسلہ جاری رہے گا تاکہ ڈیجیٹل اسپیس کو غلط معلومات کے اثرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔