World
مصر کے قدیم مقبرے سے ملا ہزاروں سال پرانا قابلِ خوردن شہد
ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے ایک قدیم مصری مقبرے سے ملنے والے شہد کے مرتبان کو کھولا جو ہزاروں سال گزرنے کے باوجود اب تک خراب نہیں ہوا۔ اس کی حیرت انگیز بقا کی وجہ اس کی قدرتی کیمیائی خصوصیات اور کم نمی کا تناسب ہے۔
ماہرینِ آثارِ قدیمہ اور تاریخ دانوں نے انکشاف کیا ہے کہ قدیم مصر کے شاہی مقبروں سے دریافت ہونے والا شہد ہزاروں سال گزر جانے کے باوجود آج بھی مکمل طور پر کھانے کے قابل ہے۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں جب ماہرین نے آثارِ قدیمہ کی کھدائی کے دوران ایسے مقبروں کا رخ کیا جہاں کھانے پینے کی اشیاء بطور نذرانہ رکھی جاتی تھیں، تو وہ یہ دیکھ کر دنگ رہ گئے کہ شہد کے مرتبان ہزاروں سال پرانے ہونے کے باوجود اپنی اصلی حالت میں محفوظ تھے۔ ماہرینِ ارضیات اور خوراک کے سائنسدانوں نے اس بات پر تحقیق کی کہ آخر یہ قدرتی غذا وقت کے اثرات سے کیسے محفوظ رہی۔
سائنسدانوں کی تحقیق کے مطابق شہد کی اس طویل زندگی اور بقا کا راز اس کی انوکھی کیمیائی ساخت میں پوشیدہ ہے۔ شہد میں پانی کی مقدار انتہائی کم ہوتی ہے، جس کی وجہ سے اس میں کسی بھی قسم کے بیکٹیریا یا فنگس کا پنپنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ شہد کی تیزابی سطح اور مکھیوں کے ذریعے اس میں شامل ہونے والا قدرتی ہائیجروجن پر آکسائیڈ اس کو ایک ایسا حفاظتی حصار فراہم کرتا ہے جو اسے صدیوں تک خراب ہونے سے بچاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کا کوئی بھی معروف جراثیم اس ماحول میں زندہ نہیں رہ سکتا۔
تاریخی حوالوں سے پتہ چلتا ہے کہ قدیم مصری تہذیب میں شہد کو نہ صرف خوراک بلکہ ادویات اور مذہبی رسومات کے لیے بھی انتہائی مقدس اور قیمتی سمجھا جاتا تھا اور اسے فرعونی مقبروں میں دفن کیا جاتا تھا۔ شہد کی یہ انیقی خصوصیت اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ قدرت نے اس مٹھاس میں ایسی حفاظتی خصوصیات رکھی ہیں جو زمانے کے تھپیڑوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شہد واحد ایسی قدرتی غذا ہے جو مناسب طریقے سے بند رکھی جائے تو کبھی خراب نہیں ہوتی۔