LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ بمقابلہ بھارت: اسٹارٹ اپ بانیوں کے رویے میں حیرت انگیز فرق

News Image
ایک طالب علم نے سرد پیغامات بھیجنے کے بعد انکشاف کیا ہے کہ سلیکن ویلی کے بانیان نئے لوگوں سے مساوی سطح پر بات کرتے ہیں۔ اس کے برعکس، بعض بھارتی کاروباری افراد روایتی اور الگ تھلگ انداز اپناتے ہیں۔
حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک منفرد بحث اس وقت شروع ہو گئی جب ایک طالب علم نے اپنے تجربات کی روشنی میں انکشاف کیا کہ سلیکن ویلی اور بھارت کے اسٹارٹ اپ بانیوں کے مواصلاتی انداز میں زمین آسمان کا فرق پایا جاتا ہے۔ طالب علم کی جانب سے بھارت اور امریکہ دونوں خطوں کے متعدد کاروباری افراد کو سرد پیغامات یعنی کولڈ میسیجز بھیجے گئے تھے، جس کے نتیجے میں حاصل ہونے والے جوابات سے یہ دلچسپ حقیقت سامنے آئی۔ تجربے کے مطابق سان فرانسسکو یا سلیکن ویلی سے تعلق رکھنے والے بیشتر بانیوں نے نئے لوگوں کے پیغامات کا جواب دیتے ہوئے ایک ساتھی یا ہم منصب والا رویہ اپنایا۔ وہ کسی بھی قسم کی تکلف یا دوری کے بغیر بات چیت کرنے کو ترجیح دیتے ہیں، جس سے نووارد افراد کو بھی حوصلہ ملتا ہے اور خیالات کا تبادلہ آسان ہو جاتا ہے۔ امریکی ٹیک کلچر میں اس غیر رسمی اور دوستانہ ماحول کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔ اس کے برعکس، بہت سے بھارتی کاروباری افراد اور اسٹارٹ اپ بانیوں نے ایک واضح 'فاؤنڈر اورا' یعنی بانی کا ایک خاص رعب اور فاصلہ برقرار رکھنے کی کوشش کی۔ ان کا انداز زیادہ روایتی، رسمی اور بعض اوقات دور کی کوڑی لانے والا محسوس ہوا۔ یہ فرق دونوں خطوں کے کاروباری اور معاشرتی ڈھانچے کی عکاسی کرتا ہے جہاں ایک طرف برابری کی سوچ کو فروغ دیا جاتا ہے تو دوسری طرف رتبے اور پوزیشن کو نمایاں رکھا جاتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کے ثقافتی اور انتظامی رویے دنیا بھر کے اسٹارٹ اپس کی کامیابی اور ناکامی پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ امریکہ میں جہاں نیٹ ورکنگ کو آسان بنایا جاتا ہے، وہیں ایشیائی خطوں میں روایتی تنظیمی درجابندی اب بھی اپنی جگہ برقرار ہے۔ اس مباحثے نے نوجوان ابھرتے ہوئے کاروباری حضرات کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ عالمی سطح پر کس قسم کا مواصلاتی رویہ زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔