Technology
ٹیک کمپنی کی جانب سے مہنگے میک بک پرو تباہ کرنے کا انکشاف
ایک بڑی ٹیک کمپنی کے سابقہ ملازم نے انکشاف کیا ہے کہ ہارڈویئر کی قلت اور مہنگائی کے اس دور میں کمپنی نے ڈیٹا صاف کرنے کے بجائے ایک سو سے زائد مہنگے میک بک پرو کمپیوٹرز کو فزیکلی تباہ کر دیا۔ یہ واقعہ عالمی سطح پر میموری کے بحران کے درمیان سامنے آیا ہے جس نے ٹیکنالوجی کی صنعت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
عالمی سطح پر ہارڈویئر کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور میموری کے شدید بحران کے باوجود، ایک بڑی ٹیکنالوجی کمپنی کے سابقہ ملازم نے انتہائی حیران کن دعویٰ کیا ہے۔ سابقہ ملازم کے مطابق اس کے سابق آجر نے ڈیٹا کو محفوظ طریقے سے وائپ کرنے یا ری سائیکل کرنے کے بجائے ایک سو سے زائد ہائی اینڈ میک بک پرو لیپ ٹاپس کو فزیکلی تباہ کر ڈالا ہے۔ یہ خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پوری دنیا میں سیمی کنڈکٹرز اور کمپیوٹر میموری کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں اور کمپنیاں نئے آلات کے حصول کے لیے کوشاں ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ واقعہ کارپوریٹ سیکیورٹی اور ڈیٹا کے تحفظ سے جڑا ہو سکتا ہے، تاہم اتنی بڑی تعداد میں کام کرنے والے اور قیمتی سسٹمز کو ضائع کرنا ماہرین کے لیے بھی ایک سوالیہ نشان بن گیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات نہ صرف قیمتی وسائل کا ضیاع ہیں بلکہ ماحولیاتی لحاظ سے بھی نقصان دہ ہیں کیونکہ الیکٹرانک کچرے میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ کمپنی کے اندرونی حلقے فی الحال اس معاملے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں اور کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں اس دعوے کے بعد بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا بڑی کمپنیاں ڈیٹا کے تحفظ کے نام پر حد سے زیادہ سخت اقدامات کر رہی ہیں۔ بہت سے ماہرین کا ماننا ہے کہ جدید سافٹ ویئر ٹولز کی مدد سے ان لیپ ٹاپس کی ڈرائیوز کو مکمل طور پر صاف کر کے انہیں فلاحی اداروں یا ملازمین کو دیا جا سکتا تھا، یا کم از کم ان کے پرزے دوبارہ استعمال کیے جا سکتے تھے۔ ت حال اس واقعے نے کارپوریٹ دنیا کے ضابطہ کار اور وسائل کے انتظام پر ایک بار پھر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔