World
مغربی کنارہ: اسرائیلی آباد کاروں کے حملے اور زمینوں پر قبضے کی کہانی
مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف آباد کاروں کے حملے کوئی الگ تھلگ واقعات نہیں بلکہ خطے پر غاصبانہ قبضے کی ایک سوچی سمجھی اسٹریٹیجی کا حصہ ہیں۔ ان کارروائیوں کا مقصد مقامی آبادی کو خوف زدہ کر کے ان کی زمینوں سے جبری بے دخل کرنا ہے۔
بین الاقوامی مبصرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی حالیہ رپورٹس سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف ہونے والے آباد کاروں کے حملے قطعی طور پر کوئی الگ تھلگ یا اتفاقیہ واقعات نہیں ہیں۔ یہ تمام پُرتشدد کارروائیاں دراصل ایک بڑی اور خطرناک حکمت عملی کا حصہ ہیں جس کا بنیادی مقصد فلسطینی زمینوں پر ناجائز قبضہ جمانا اور وہاں اپنی آبادی کو بسانا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان حملوں کو منظم انداز میں چلایا جا رہا ہے تاکہ مقامی فلسطینیوں کے لیے زندگی تنگ کی جا سکے۔ اس پوری مہم میں اسرائیلی فوجی ڈھانچے کی خاموش یا بعض اوقات اعلانیہ حمایت بھی شامل ہوتی ہے، جس کی وجہ سے آباد کاروں کے حوصلے بلند ہیں۔ اس طرح کی کارروائیوں کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ صدیوں پرانے فلسطینی دیہات اور بستیاں خالی کروائی جا رہی ہیں اور وہاں نئی غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی بنیاد رکھی جا رہی ہے۔ بین الاقوامی قوانین کے باوجود اس صورتحال میں دن بہ دن بگاڑ پیدا ہوتا جا رہا ہے اور خطے میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ رہی ہے۔ دوسری جانب، عالمی برادری اور انسانی حقوق کے اداروں کی طرف سے بارہا یہ تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ اگر اس منظم دہشت گردی اور زمینوں کے غصب کو نہ روکا گیا تو خطے میں پائیدار امن کا قیام ہمیشہ کے لیے ناپید ہو جائے گا۔ فلسطینی عوام اپنے بنیادی حقوق، جان و مال کے تحفظ اور اپنی آبائی زمینوں پر قبضے کے خلاف مسلسل احتجاج کر رہے ہیں، مگر ریاستی پشت پناہی کی وجہ سے غاصبانہ اقدامات کا یہ سلسلہ تاحال بلا تعطل جاری ہے۔ اس پورے منظر نامے نے مقبوضہ علاقوں میں انسانی المیے کو جنم دے دیا ہے جہاں ہر گزرتے دن کے ساتھ فلسطینیوں کا جینا محال ہوتا جا رہا ہے۔