World
غزہ میں خالی ڈبوں سے جانوروں کی پناہ گاہوں کی تعمیر
غزہ کے ایک باصلاحیت انجینئر نے جنگ سے متاثرہ علاقے میں بے سہارا جانوروں کے لیے خالی کنٹینرز اور ڈبوں کی مدد سے منفرد پناہ گاہیں بنا دی ہیں۔ یہ اقدام علاقے میں جانوروں کی فلاح و بہبود اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے ایک انوکھی مثال پیش کرتا ہے۔
مشرق وسطیٰ کے کشیدہ ترین علاقے غزہ میں مشکلات کے باوجود تخلیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ جاری ہے۔ یہاں کے ایک ماہر انجینئر نے جنگ اور تنازعات سے دوچار خطے میں بے سہارا جانوروں کی حفاظت کے لیے ایک انوکھا اور قابل تحسین قدم اٹھایا ہے۔ انہوں نے کچرے میں پھینکے جانے والے خالی ڈبوں اور مختلف قسم کے کنٹینرز کا استعمال کرتے ہوئے جانوروں کے لیے محفوظ اور پائیدار پناہ گاہیں تیار کی ہیں، جو اس مشکل وقت میں ایک بہترین انسانی و فلاحی عمل ہے۔
اس تخلیقی منصوبے کے تحت انجینئر نے شہر کے مختلف حصوں سے جمع کیے جانے والے دھاتی اور پلاسٹک کے خالی ڈبوں کو باہم جوڑ کر چھوٹے جانوروں جیسے کہ آوارہ بلیوں اور کتوں کے لیے چھوٹے گھر اور شیلٹرز بنائے۔ یہ پناہ گاہیں نہ صرف جانوروں کو شدید موسم اور بارش سے بچاتی ہیں بلکہ یہ ماحول دوست بھی ہیں کیونکہ ان کی تیاری میں ری سائیکل شدہ مواد کا بھرپور استعمال کیا گیا ہے۔
غزہ کے اس انجینئر کا کہنا ہے کہ جنگ کے دوران انسانوں کے ساتھ ساتھ بے زبان جانور بھی شدید مشکلات اور خوراک کی کمی کا شکار ہوتے ہیں، اور ان کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہوتا۔ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے اپنے محدود وسائل میں رہتے ہوئے اس منفرد پناہ گاہ کے منصوبے کا آغاز کیا تاکہ ان بے زبان مخلوقات کو بھی رہنے کے لیے ایک محفوظ جگہ فراہم کی جا سکے۔
مقامی سطح پر اس اقدام کو بے حد سراہا جا رہا ہے اور لوگ اس انجینئر کی اس کاوش کو انسانیت اور جانوروں سے محبت کی ایک روشن مثال قرار دے رہے ہیں۔ اس نوعیت کے اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ انتہائی کٹھن حالات میں بھی تخلیقی سوچ اور جذبے کے ذریعے مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے اور معاشرے کے سب سے کمزور طبقات، بشمول بے زبان جانوروں کی دیکھ بھال کی جا سکتی ہے۔