LIVE
Loading Breaking News...

شام اور روس کے درمیان فوجی اڈوں کے مستقبل پر معاہدہ طے

News Image
شام نے اعلان کیا ہے کہ اس نے روس کے ساتھ ملک میں موجود روسی فوجی اڈوں کے مستقبل کے حوالے سے ایک معاہدہ طے کر لیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت حمیمیم ایئر بیس اور طرطوس بحری اڈے کو مشترکہ تربیتی اور صلاحیت سازی کے مراکز میں تبدیل کیا جائے گا۔
دمشق: شام نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ اس نے روس کے ساتھ ملک میں قائم روسی فوجی اڈوں کے مستقبل کے حوالے سے ایک اہم اور جامع معاہدہ طے کر لیا ہے۔ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان طویل مدتی اسٹریٹجک تعلقات میں ایک نیا موڑ ثابت ہو سکتا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک دفاعی اور عسکری شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دیں گے۔ اس پیشرفت کو خطے کی بدلتی ہوئی سیاسی اور عسکری صورتحال میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ معاہدے کی تفصیلات کے مطابق، شام میں واقع روس کا حمیمیم ایئر بیس اور طرطوس بحری اڈہ اب مکمل طور پر الگ تھلگ روسی تنصیبات کے بجائے مشترکہ تربیتی اور صلاحیت سازی کے مراکز میں تبدیل کیے جائیں گے۔ اس نئی ترتیب سے دونوں ممالک کی افواج کو ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانے اور دفاعی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کا موقع ملے گا۔ دونوں اڈے شامی اور روسی عسکری تعاون کی علامت کے طور پر کام کرتے رہیں گے۔ یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں بڑے پیمانے پر جیو پولیٹیکل تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اور تمام فریقین اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے نئے سفارتی اور عسکری لائحہ عمل طے کر رہے ہیں۔ شامی حکام کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ ملکی خودمختاری اور قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے تاکہ خطے میں امن و استحکام کے قیام کو یقینی بنایا جا سکے اور باہمی تعاون کی راہیں مزید روشن ہوں گی۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس معاہدے سے خطے میں روسی اثر و رسوخ کے تسلسل کو ایک نیا قانونی اور انتظامی فریم ورک فراہم ہو گا، جبکہ شامی فورسز کو بھی جدید دفاعی تربیت اور تکنیکی معاونت حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ فریقین کی جانب سے اس معاہدے پر عمل درآمد کے لیے آئندہ کے لائحہ عمل پر کام شروع کر دیا گیا ہے، اور توقع ہے کہ اس سے دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔