World
اسرائیل کا گرین رفح پلان: غزہ کی تقسیم اور نقل مکانی کی سازش
ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے غزہ میں نئے انتظامی زونز کا قیام فلسطینی کاز کو ختم کرنے کی کوشش ہے۔ اس منصوبے کا مقصد خطے سے بڑے پیمانے پر جبری نقل مکانی کرانا ہے۔
بین الاقوامی امور اور خطے کے ماہرین نے انتباہ جاری کیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ میں نافذ کیا جانے والا نیا 'گرین رفح' منصوبہ دراصل اس پٹی کو مزید چھوٹے حصوں میں تقسیم کرنے اور فلسطینی کاز کو مکمل طور پر مٹانے کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔ اس منصوبے کے تحت غزہ کے مختلف علاقوں میں نئے انتظامی زونز قائم کیے جا رہے ہیں جن کا مقصد مقامی آبادی پر کنٹرول مزید سخت کرنا اور زمینی حقائق کو یکسر تبدیل کرنا ہے۔ مبصرین کے مطابق، اس نوعیت کے اقدامات خطے میں پہلے سے موجود انسانی بحران کو مزید گہرا کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس حکمت عملی کا بنیادی ہدف فلسطینیوں کو ان کے آبائی علاقوں سے جبری طور پر بے دخل کرنا ہے، تاکہ مستقل نقل مکانی کے ذریعے غزہ کی ڈیموگرافی کو تبدیل کیا جا سکے۔ ماضی میں بھی اس قسم کے منصوبوں پر خدشات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے، تاہم حالیہ پیشرفت نے اس خدشے کو مزید تقویت دی ہے کہ اسرائیل ایک طویل المدتی قبضے کی راہ ہموار کر رہا ہے۔ دوسری جانب، انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے بھی اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تنظیموں کا کہنا ہے کہ غزہ پہلے ہی شدید بمباری، محاصرے اور خوراک و ادویات کی کمی کا شکار ہے، اور ایسے حالات میں نئے انتظامی زونز کا قیام مزید انسانی المیوں کو جنم دے گا۔ عالمی برادری اور سفارتی حلقوں پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں تاکہ فلسطینی عوام کو مزید تباہی اور جبری نقل مکانی سے بچایا جا سکے، ورنہ خطے میں دیرپا امن کا حصول ناممکن ہو جائے گا۔