World
عراقی کردستان خطے میں امن کا خواہاں، نیچروان بارزانی کا بیان
عراقی کردستان کے رہنما نیچروان بارزانی نے کہا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود ان کی حکومت امن اور استحکام کی خواہاں ہے۔ انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کریں۔
عراقی کردستان کے رہنما نیچروان بارزانی نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر ایک اہم بیان جاری کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ عراقی کردستان خطے میں کسی بھی قسم کے مزید تنازعات یا جنگی صورتحال کا حامی نہیں ہے بلکہ وہ ہمیشہ سے امن، استحکام اور پرامن بقائے باہمی پر یقین رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ علاقائی حالات انتہائی نازک موڑ پر پہنچ چکے ہیں، جن کے لیے تمام متعلقہ فریقین کو انتہائی تحمل اور دانشمندی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔
خطے میں جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور مختلف محاذوں پر جاری رسہ کشی کے تناظر میں، کردستان کی قیادت کا یہ بیان انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، عراق اور بالخصوص کردستان کا خطہ طویل عرصے سے بیرونی اور اندرونی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، اور کسی بھی قسم کی نئی کشیدگی کے معیشت اور سیکیورٹی پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ نیچروان بارزانی نے زور دیا ہے کہ تمام مسائل کے حل کے لیے عسکری راستے کے بجائے سیاسی بات چیت اور سفارتی ذرائع کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
عراقی کردستان کی حکومت نے ہمیشہ علاقائی شراکت داروں کے ساتھ اچھے اور متوازن تعلقات قائم رکھنے کی کوشش کی ہے۔ رہنماؤں کا ماننا ہے کہ خطے کے امن کو برقرار رکھنے کے لیے تمام فریقین کو باہمی احترام اور خودمختاری کے اصولوں کا پاس رکھنا ہوگا۔ موجودہ حالات میں بین الاقوامی برادری اور علاقائی طاقتوں پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ صورتحال کو مزید بگاڑنے سے روکنے کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کریں۔
آخر میں، نیچروان بارزانی نے اپنے عوام اور خطے کے مستقبل کے لیے امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ پرامید ہیں کہ فہم و فراست سے کام لے کر موجودہ بحران پر قابو پا لیا جائے گا۔ عراقی کردستان کی قیادت کا یہ عزم خطے کے اندر اور باہر امن پسند حلقوں میں سراہا جا رہا ہے، اور اس بات کی توقع کی جا رہی ہے کہ اس سے کشیدگی میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔