World
ایران میں مہنگائی اور خوراک کی قیمتیں: عوام کی مشکلات میں اضافہ
ایران میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور جنگی دباؤ کی وجہ سے عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اشیائے خوردونوش کی آسمان چھوتی قیمتوں نے ایرانی خاندانوں کو مالی بحران میں مبتلا کر دیا ہے۔
تہران: ایران میں زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد شدید معاشی دباؤ اور مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں۔ ملک میں خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عام خاندانوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے، اور صورتحال یہ ہو چکی ہے کہ متوسط طبقہ بھی بنیادی ضروریات زندگی پوری کرنے سے قاصر ہوتا جا رہا ہے۔ ماہرین اقتصادیات اس صورتحال کو 'امیر مگر غریب' کا نام دے رہے ہیں کیونکہ وسیع تر اقتصادی مسائل کے باعث لوگوں کی قوت خرید تیزی سے کم ہوتی جا رہی ہے۔
حالیہ مہینوں کے دوران مہنگائی کی شرح میں ہوشربا اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کی بنیادی وجوہات میں ملکی معاشی چیلنجز اور بڑھتا ہوا جنگی دباؤ شامل ہیں۔ گوشت، سبزیاں، دودھ اور دیگر بنیادی اشیائے خوردونوش کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔ عام شہریوں کا کہنا ہے کہ ماہانہ آمدنی مہنگائی کے تناسب سے نہ بڑھنے کی وجہ سے ان کے لیے اپنے بچوں کا پیٹ پالنا اور گھر کا کرایہ ادا کرنا بھی ناممکن بنتا جا رہا ہے۔
اس تشویشناک صورتحال کے نتیجے میں ایرانی معاشرے میں بے چینی اور عدم استحکام میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دکاندار اور تجارتی حلقے بھی اس بحران سے بری طرح متاثر ہیں کیونکہ گاہکوں کی قوت خرید کم ہونے سے کاروبار سست پڑ گئے ہیں۔ اگرچہ حکومت کی طرف سے مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مختلف دعوے کیے جاتے ہیں، تاہم زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عام لوگوں کی مشکلات میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور فوری ریلیف کے آثار نظر نہیں آ رہے۔