Business
پاکستان کا سعودی عرب، کویت اور قطر کے ساتھ تیل ذخیرہ کرنے کا منصوبہ
وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سعودی عرب، کویت اور قطر کے ساتھ مل کر تیل کی ذخیرہ اندوزی کا ایک نیا منصوبہ شروع کر رہا ہے۔ اس کمرشل بانڈڈ اسکیم کے تحت یہ ممالک پاکستان میں اپنے خرچ پر تیل ذخیرہ کریں گے اور کسی بھی تنازع کی صورت میں پاکستان کو اسے خریدنے کا حق حاصل ہو گا۔
وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ پاکستان نے توانائی کے تحفظ کو مزید مستحکم کرنے کے لیے سعودی عرب، کویت اور قطر کے ساتھ مل کر تیل کی ذخیرہ اندوزی کا ایک بڑا منصوبہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے تحت مذکورہ برادر ممالک پاکستان کے محفوظ علاقوں میں اپنے خرچ پر تیل ذخیرہ کریں گے اور یہیں سے پوری دنیا کو سپلائی کریں گے۔ حکومت کو یہ خصوصی حق حاصل ہو گا کہ کسی بھی ہنگامی یا تنازع کی صورت میں وہ ان ذخائر کو خود خرید کر ملکی ضروریات کو پورا کر سکے گی۔ وزیر پٹرولیم نے مزید بتایا کہ آرمکو اور دیگر بڑی کمپنیوں کے تعاون سے تیار کردہ اس کمرشل بانڈڈ اسکیم کی سمری وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کو ارسال کر دی گئی ہے۔ توقع ہے کہ آئندہ ہفتے اس حوالے سے اہم فیصلے کیے جائیں گے جس سے پاکستان کی توانائی کی ضروریات بغیر کسی بڑے مالی خرچ کے پوری ہو سکیں گی۔ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کا لگ بھگ نوے فیصد حصہ درآمد کرتا ہے جبکہ ملکی پیداوار یومیہ ستر ہزار بیرل ہے جبکہ طلب پانچ لاکھ بیرل یومیہ ہے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے علی پرویز ملک نے بین الاقوامی سطح پر تیل کی سپلائی میں تعطل اور آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باوجود حکومت نے ملک میں ایندھن کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنایا ہے اور صارفین کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اوگرا کی ویب سائٹ پر شفاف قیمتوں کا میکانزم بھی متعارف کرا دیا گیا ہے۔ وزیر پٹرولیم نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ترکی کی معروف کمپنی ترک پٹرولیم جلد ہی پاکستان کے سمندری حدود میں آف شور ڈرلنگ کا آغاز کرے گی جس سے ملکی توانائی کے شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہیں کھلیں گی۔ اس کے علاوہ ایل پی جی کے ٹینڈرز بھی پیر کے روز کھولے جائیں گے اور صارفین کی سہولت کے لیے نئے گیس کنکشنز کے اجراء کے انتظامات بھی مکمل کر لیے گئے ہیں۔ حکومت توانائی کے شعبے کے دیرینہ مسائل بالخصوص گردشی قرضوں کے پھیلاؤ کو روکنے اور معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔