Pakistan
میر رضا علی قتل کیس: نئی جے آئی ٹی تشکیل، ایف آئی آر میں قتل کی دفعات کا اضافہ
کراچی کے نوجوان کاروباری شخصیت میر رضا علی کے قتل کے معاملے میں پولیس نے نئی پانچ رکنی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہے جبکہ مقدمے میں قتل اور ثبوت چھپانے کی دفعات بھی شامل کر لی گئی ہیں۔ یہ اقدام دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ کی روشنی میں اٹھایا گیا جس میں اس بات کا انکشاف ہوا کہ مقتول کو پیچھے سے گولی ماری گئی تھی۔
کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں پراسرار طور پر جاں بحق ہونے والے پچیس سالہ نوجوان کاروباری شخصیت میر رضا علی کے قتل کے معاملے میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ پولیس حکام نے اس کیس کی تحقیقات کے لیے ایک نئی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہے جبکہ ابتدائی درج ہونے والی ایف آئی آر میں قتل اور شواہد چھپانے کی سنگین دفعات کا بھی باقاعدہ اضافہ کر دیا گیا ہے۔ سندھ انسپکٹر جنرل آف پولیس کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک حکم نامے کے مطابق، یہ فیصلہ مقتول کی دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ کی روشنی میں کیا گیا ہے، جس نے پہلی رپورٹ کے نتائج کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے اور خودکشی کے دعووں کو مسترد کر دیا ہے۔
اب اس مقدمے کی تفتیش پانچ رکنی اعلیٰ سطحی ٹیم کے سپرد کی گئی ہے جس کی سربراہی ڈپٹی آئی جی کرائم اینڈ انویسٹی گیشن عامر فاروقی کر رہے ہیں۔ اس ٹیم میں دیگر سینئر پولیس افسران کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ تمام تکنیکی، فرانزک اور حالات و واقعات کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جا سکے۔ یاد رہے کہ انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈو گجیوٹ (آئی بی اے) کے فارات اور کیفے کے مالک میر رضا علی رواں برس جولائی کے آخر میں لاپتہ ہوئے تھے، جن کی لاش بعد ازاں گلستان جوہر کے علاقے سے گولی لگی ہوئی حالت میں ملی تھی۔ ابتدائی طور پر پولیس اس معاملے کو خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کر رہی تھی لیکن خاندان کے شدید احتجاج اور قانونی جنگ کے بعد قبر کشائی کر کے دوسرا پوسٹ مارٹم کروایا گیا، جس سے یہ حقیقت سامنے آئی کہ مقتول کو پیٹھ میں گولی ماری گئی تھی اور اسے قتل کرنے سے پہلے شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
دوسری جانب، سندھ اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی چیئرپرسن فریال تالپور نے بھی اس واقعے کا سخت نوٹس لیا ہے اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو ایک جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی سفارش کی ہے تاکہ اس پورے واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مقتول کے اہل خانہ کو انصاف کی فراہمی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس معاملے میں کسی بھی قسم کی غفلت یا لاپرواہی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ مقتول کے خاندانی وکیل جبران سابقہ مرحلے پر پولیس کی ابتدائی تفتیش پر عدم اعتماد کا اظہار کر چکے تھے اور تمام ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔
نئی تشکیل شدہ پولیس ٹیم کو یہ ٹاسک سونپا گیا ہے کہ وہ تمام نئے شواہد کا احاطہ کرے، کیس کے ہر پہلو کا باریک بینی سے جائزہ لے اور مقررہ وقت کے اندر عدالت میں اپنی رپورٹ جمع کروائے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تفتیش کے دوران شفافیت کو برقرار رکھا جائے گا اور روزانہ کی بنیاد پر اس کی پیشرفت سے اعلیٰ حکام کو آگاہ کیا جائے گا۔ اس اندوہناک واقعے نے ایک بار پھر شہر قائد میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی اور میڈیکل لیگل کے نظام پر کئی سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں، اور اب تمام کی نظریں اس نئی تحقیقاتی ٹیم اور عدالتی کارروائی پر مرکوز ہیں۔