World
یمن میں جنگ کا خطرہ: حوثیوں کے لیے نئی صورتحال
یمن میں حالیہ پیش رفت اور زمینی حقائق اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ ملک میں جنگ کا نیا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔ یہ ممکنہ نئی کشیدگی حوثی باغیوں کے لیے ماضی کے مقابلے میں بالکل مختلف نوعیت کی ثابت ہو سکتی ہے۔
یمن میں ایک بار پھر جنگ کے بادل منڈلانے لگے ہیں اور تازہ ترین اطلاعات کے مطابق حوثی باغیوں کے خلاف سرگرم قوتیں مزید طاقتور ہو رہی ہیں۔ بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر ہونے والی حالیہ پیش رفت سے یہ اشارے مل رہے ہیں کہ ملک میں ایک بار پھر طویل اور شدید لڑائی کا آغاز ہو سکتا ہے، جو خطے کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کرے گی۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر جنگ دوبارہ شروع ہوتی ہے تو یہ ماضی کے تنازعات سے کافی مختلف ہوگی کیونکہ اب حوثیوں کو زیادہ منظم اور مضبوط حریفوں کا سامنا ہے۔ یمن کی موجودہ صورتحال انتہائی نازک موڑ پر پہنچ چکی ہے جہاں تمام فریقین اپنے اپنے اسٹریٹجک اہداف کے حصول کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ انسدادِ حوثی فورسز کی پوزیشن میں حالیہ بہتری نے عسکری توازن کو متاثر کیا ہے، جس کی وجہ سے حوثی قیادت کو نئی حکمت عملی اپنانے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں سفارتی کوششیں اگر ناکام ہوئیں تو زمینی سطح پر تصادم میں تیزی آنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس کشیدگی کے معاشی اور انسانی اثرات بھی یمن کی عوام کے لیے انتہائی تشویشناک ہوں گے جو پہلے ہی سالوں کی خانہ جنگی کا عذاب جھیل رہے ہیں۔ علاقائی ممالک اور عالمی طاقتیں بھی اس تمام صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ بڑے بحران سے نمٹا جا سکے۔