World
تیونس میں راشد الغنوشی کی قید اور اہل خانہ کی ملاقات پر پابندی کی تفصیلات
تیونس کے قید حزب اختلاف کے رہنما راشد الغنوشی کے بارے میں گیارہ دنوں سے کوئی خبر نہیں ملی ہے کیونکہ ان کے اہل خانہ اور وکلاء کو ان سے ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ ان کے صاحبزادے نے عالمی میڈیا کو بتایا ہے کہ جیل میں طبی بحران کے بعد حکام نے سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
تیونس کی سیاست میں اس وقت شدید بے چینی اور تشویش کی لہر دوڑ گئی جب حزب اختلاف کی معروف جماعت النحضہ کے رہنما راشد الغنوشی کے حوالے سے ہوشربا انکشافات سامنے آئے۔ اطلاعات کے مطابق، جیل میں اچانک طبیعت بگڑنے اور گرنے کے واقعے کے بعد سے حکام نے ان تک رسائی مکمل طور پر بند کر دی ہے۔ راشد الغنوشی کے صاحبزادے نے الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ گیارہ دنوں سے ان کے اہل خانہ اور قانونی ٹیم کو ان کی خیریت کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی گئی اور نہ ہی کسی کو ان سے ملاقات کی اجازت مل رہی ہے۔
راشد الغنوشی، جو کہ تیونس کی پارلیمنٹ کے سابق اسپیکر اور ملک کے سرکردہ سیاسی رہنما ہیں، کو حکومتی کریک ڈاؤن کے دوران حراست میں لیا گیا تھا۔ ان کی طویل قید اور بڑھتی ہوئی عمر کے باعث ان کے حامیوں اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کی طرف سے پہلے ہی گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا تھا۔ تازہ ترین واقعے نے ان کی صحت کے حوالے سے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے، کیونکہ جیل کے اندر طبی امداد کی بروقت فراہمی اور ان کی مجموعی جسمانی حالت کے بارے میں حکارتی سطح پر مکمل خاموشی اختیار کی گئی ہے۔
قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کے محافظوں نے اس اقدام کو بنیادی انسانی حقوق کی سنگین پامالی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی قیدی کو قانونی نمائندوں اور اپنے اہل خانہ سے رابطے سے محروم رکھنا ملکی اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ادھر النحضہ پارٹی نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر راشد الغنوشی کی صحت کے بارے میں حقائق کو عوام کے سامنے لایا جائے اور ان کے وکلاء کو ان سے ملنے کی اجازت دی جائے۔
اس صورتحال نے تیونس میں سیاسی کشیدگی کو ایک بار پھر عروج پر پہنچا دیا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اس معاملے پر ملک کے اندرونی حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں جبکہ بین الاقوامی سطح پر بھی تیونس حکومت پر دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے اس ظالمانہ رویے کے خلاف احتجاجی تحریک چلانے کا عندیہ دیا ہے تاکہ قید رہنماؤں کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔